روسی فوج یوکرین کے ایسے علاقے میں داخل کہ پوری جنگ کا نقشہ تبدیل ہونے کا امکان پیدا ہوگیا
روس کی تازہ پیش قدمی کا دعویٰ
ماسکو (ڈیلی پاکستان آن لائن) روس نے اتوار کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے پہلی بار یوکرین کے مشرقی علاقے دنیپروپیٹروفسک میں پیش قدمی کی ہے، جو تین سالہ جنگ کے دوران ایک بڑی زمینی پیش رفت اور علامتی طور پر کیف کے لیے ایک اہم دھچکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پہلگام تنازع بھارت کی سالمیت کے بجائے نریندرا مودی کی بقا کی جنگ تھا؟
روسی وزارت دفاع کا بیان
روئٹرز کے مطابق روسی وزارت دفاع نے کہا کہ اس کی ایک ٹینک یونٹ نے "ڈونیٹسک پیپلز ریپبلک کی مغربی سرحد تک رسائی حاصل کر لی ہے اور دنیپروپیٹروفسک کے علاقے میں جارحانہ کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: ہمیں فوری طور پہ اپنے اندرونی سیاسی معاملات افہام و تفہیم سے حل کرنے چاہئیں، نعیم خالد لودھی
الحاق کا دعویٰ
ماسکو کی جانب سے اگرچہ یوکرین کے پانچ علاقوں کے الحاق کا دعویٰ کیا گیا ہے، لیکن دنیپروپیٹروفسک کو تاحال باضابطہ طور پر شامل کرنے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے نکالنے کا فیصلہ کہاں ہوا؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں
یوکرینی حکومت کا ردعمل
یوکرینی حکومت نے روس کے اس دعوے پر تاحال کوئی فوری ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کا بیجنگ میں مصروفیت سے بھر پوردن،5وزٹ، 5ملاقاتیں اور ایم او یوز پر دستخط، چینی کمپنی پنجاب میں روبوٹک زرعی آلات مینوفیکچرنگ پلانٹ لگائے گی
تشویش کی وجوہات
روسی افواج کی اس نئے علاقے میں پیش قدمی یوکرین کے لیے اس لحاظ سے بھی تشویشناک ہے کہ پچھلے کئی مہینوں میں میدانِ جنگ میں کیف کو مسلسل مشکلات اور پسپائی کا سامنا رہا ہے۔ دنیپروپیٹروفسک کا علاقہ نہ صرف علامتی اہمیت رکھتا ہے بلکہ اس کی جغرافیائی پوزیشن یوکرین کے دفاعی نظام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب، بنگلہ دیش نے بھی امداد کی پیشکش کر دی
معاشی اثرات
یہ علاقہ یوکرین کے اہم صنعتی اور معدنیاتی مراکز میں شمار ہوتا ہے، اور اگر روس یہاں مزید گہرائی میں داخل ہو جاتا ہے تو یہ کیف کی کمزور ہوتی معیشت اور جنگی طاقت پر گہرا منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
آبادی کی صورتحال
روس کے حملے سے قبل دنیپروپیٹروفسک کی آبادی تقریباً 30 لاکھ تھی، جب کہ اس کے دارالحکومت دنیپرو میں ایک ملین کے قریب لوگ رہائش پذیر تھے。








