منڈی بہاؤالدین: 8 سالہ اغوا بچی جنسی زیادتی کے بعد قتل، لاش کھیت سے برآمد
منڈی بہاؤالدین میں ہولناک واقعہ
منڈی بہاؤ الدین(ڈیلی پاکستان آن لائن)پنجاب کے ضلع منڈی بہاؤالدین کی تحصیل ملکوال کے نواحی علاقے مراد وال میں 8 بچی کو اغوا کرنے کے بعد جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر بے دردی سے قتل کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر خیبر پختونخوا کا سندس فاؤنڈیشن لاہور کا دورہ، زیر علاج مریض بچوں کی عیادت، تحائف تقسیم کیے
واقعے کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز رپورٹ کے مطابق دل دہلا دینے والا واقعہ عید الاضحی کے پہلے روز پیش آیا جہاں 8 سالہ معصوم بچی کرن شہزادی کو اغواء کے بعد مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔ مقتولہ کی لاش عید الاضحی کے اگلے دوسرے روز کماد کے کھیت سے برآمد ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: 27ویں ترمیم مسودہ، حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب
بچی کی غیاب کی اطلاع
مقتولہ کرن شہزادی دختر محمد افتخار قوم مسلم شیخ عید الاضحی کے پہلے دن 3 بجے کے قریب اپنی والدہ سے 50 روپے لے کر قریبی دکان گئی اور واپس نہ آئی۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور بی آر ٹی: کرایوں میں اضافے کا حتمی فیصلہ، مالی خسارہ برقرار
تحقیقات کی شروعات
والدین نے قریبی رشتہ داروں اور اہل علاقہ کے ساتھ مل کر ہر ممکن کوشش سے بچی کو تلاش کیا، مگر کوئی سراغ نہ ملا۔ بچی کی والدہ نے پولیس تھانہ ملکوال کو اطلاع دی جس پر پولیس نے لاپتا ہونے کی رپورٹ درج کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے متعلق معاملہ زیر غور ہے، وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک
لاش کی برآمدگی
عید الاضحی کے دوسرے روز کماد کے کھیت سے کرن کی لاش برآمد ہوئی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو قبضے میں لے کر تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال ملکوال منتقل کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ کا سی ڈی اے کو تحلیل کرنے کا حکم
پوسٹ مارٹم اور تحقیقات
نابالغ لڑکی کی نعش پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منڈی بہاوالدین منتقل کر دیا گیا، پولیس نے ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات شروع کردیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب کا سرگودھا میں 3 خواتین پر تشدد کا نوٹس ، رپورٹ طلب کر لی
قانونی کاروائی
پولیس تھانہ ملکوال نے بچی کے والدہ کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 535/25 بجرم دفعہ 363 تعزیرات پاکستان کے تحت درج کر لیا ہے۔
تحقیقات کی پیشرفت
ابتدائی شواہد اور اہل خانہ کے بیانات کی روشنی میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بچی کو اغواء کے بعد مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور قتل کر کے لاش کھیت میں پھینک دی گئی۔
پولیس کے مطابق مزید دفعات پوسٹ مارٹم رپورٹ اور فرانزک شواہد کی بنیاد پر شامل کی جائیں گی، جب کہ تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے۔








