آئی ایم ایف نے معیشت کو آئی سی یو سے نکال آپریشن تھیٹر میں ڈال دیا : ماہر معاشی امور
معاشی ماہرین کی آراء
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ماہر معاشی امور خاقان نجیب کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ہماری معیشت کو آئی سی یو سے نکال کر آپریشن تھیٹر میں ڈال دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف نے ٹیکس فراڈ قوانین میں نرمی کی منظوری دے دی
عارف حبیب کا تجزیہ
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف صنعتکار عارف حبیب نے کہا کہ ہم زراعت اور لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں اہداف حاصل نہ کرسکے، جس کی وجہ سے مجموعی جی ڈی پی کا ہدف حاصل نہ ہوسکا۔
یہ بھی پڑھیں: ملتان سلطانز اور پشاور زلمی کے درمیان میچ کا ٹاس ہوگیا
زرعی مسائل اور حل
عارف حبیب نے کہا کہ رواں سال کسانوں کی معیشت بری طرح متاثر رہی، زرعی اجناس کی قیمتوں میں بہت کمی آئی ہے۔ حکومت کو کسانوں کو زیادہ پیداوار کے لیے راضی کرنا ہوگا، زراعت میں ماڈرن ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے اور پیداوار بڑھائی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: بالیوڈ اداکارہ 60 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں
مہنگائی اور صنعت
انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی کی وجہ سے انڈسٹریز اپنی صلاحیت کے لحاظ سے کم کام کررہی ہیں۔ انڈسٹریز کے ٹیکس ریٹ میں تبدیلی اور انرجی کاسٹ کی بڑھوتری نے بھی مسائل پیدا کر رکھے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی گلوکارہ نیہا ککڑ نے سوشل میڈیا سے عارضی کنارہ کشی کا اعلان کر دیا
معاشی گروتھ کی رکاوٹیں
عارف حبیب نے کہا کہ سال گزشتہ میں زراعت میں پیچھے رہنے کی وجہ سے معاشی گروتھ کا ہدف حاصل نہیں ہو سکا۔ مہنگائی کم ہونے کے باوجود، کنسٹرکشن سیکٹر کے لیے نئے سال میں مناسب ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یمن میں یو اے ای مفادات پر سعودی عرب نے فضائی حملے کیوں کیے؟
حکومتی پالیسیز کی ضرورت
ماہر معاشی امور خاقان نجیب کا کہنا ہے کہ حکومت کو ٹیکس نیٹ میں لوگوں کو لانے کے لیے پرکشش مواقع فراہم کرنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ وفاقی اور صوبائی سطح پر کمزور ہے، جسے بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی وزٹ ویزے پر اوور اسٹے، 50 ہزار ریال تک جرمانہ اور قید کا انتباہ
زرعی پیداوار اور بجٹ
انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ میں زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے آر اینڈ ڈی کے لیے رقم مختص کرنا ہوگی، کیونکہ کپاس کی پیداوار بھارت کے مقابلے میں کم رہی ہے۔
آخری بصیرت
خاقان نجیب نے یہ بھی ذکر کیا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی اور پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں کمی کا معیشت پر مثبت اثر نہیں ہو رہا۔ ٹیکس نیٹ میں لوگوں کو ترغیب دی جائے تاکہ معیشت میں بہتری آسکے۔








