راولپنڈی میں لڑکی کو شادی کا جھانسہ دے کر سہیلی کے بھائی نے متعدد بار زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا
راولپنڈی میں طالبہ کے ساتھ زیادتی کا واقعہ
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) تھانہ صدر بیرونی پولیس نے میٹرک کی طالبہ سے شادی کا جھانسا دے کر متعدد بار زیادتی کر کے ویڈیو بنانے والے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بزنس کونسل شارجہ اور پرتگال بزنس کونسل شارجہ کا B2B اجلاس
شادی کا جھانسہ اور زیادتی
ڈان نیوز کے مطابق میٹرک کی طالبہ کو شادی کا جھانسا دے کر اس کے ساتھ متعدد بار زیادتی کرنے کا مقدمہ پولیس نے درج کرلیا ہے۔ ملزم نے ویڈیو بنا کر بلیک میل بھی کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سلمان خان کو سونم کیساتھ رومانوی سین کیلئے 5 ماہ تک منانا، لیکن اداکار کی کیا تھی رائے؟ جانئے!
پولیس کی کارروائی
پولیس کے مطابق راولپنڈی کے علاقے خصالہ کلاں تھانہ صدر بیرونی کی حدود میں میٹرک کی طالبہ کو شادی کا جھانسا دے کر متعدد بار زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، جب کہ ملزم نے زیادتی کی ویڈیو بنا کر متاثرہ لڑکی کو بلیک میل بھی کیا۔ طالبہ کے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جس کے بعد ایک ملزم کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی، اندرون و بیرون ملک 300 پروازیں متاثر
زائد مطالبات اور بلیک میلنگ
ایف آئی آر کے متن کے مطابق متاثرہ طالبہ کی سہیلی نے اپنے بھائی نقاش سے اس کی دوستی کرائی اور متعدد ملاقاتوں کا بندوبست کیا۔ ملزم نقاش نے شادی کا جھانسا دے کر متعدد بار طالبہ کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس کی ویڈیو بھی بنائی۔
یہ بھی پڑھیں: وہ خاندان جس کے ہاں 65 سال بعد پہلے لڑکے کی پیدائش
دباؤ اور دھمکیاں
بعد ازاں ملزم کے کزن باسط نے اس ویڈیو کو وائرل کرنے کی دھمکی دے کر متاثرہ لڑکی کو مزید بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔ مقدمے کے مطابق باسط نے کالز اور میسجز کے ذریعے تعلقات قائم کرنے پر زور دیا اور جب متاثرہ طالبہ نے اس دباؤ کو اپنی سہیلی سے شیئر کیا تو سہیلی نے بھی بھائی کی خواہشات پوری کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔
مقدمہ اور تحقیقات
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جب لڑکی نے ان کے مطالبات پورے کرنے سے انکار کیا تو ملزمان نے ویڈیو وائرل کرکے زیادتی کی ہے۔ دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور دوسرے کی تلاش جاری ہے۔








