آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے اہم نکات سامنے آگئے
آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے اہم نکات سامنے آ گئے ہیں۔ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8207 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لکی مروت میں پولیس کانسٹیبل اہل خانہ کے سامنے قتل، مسلح افراد نے گھر کو آگ لگادی
دفاعی بجٹ
جیو نیوز کے مطابق دفاع کے لیے 2550 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہفتہ کی رات بنی پی ٹی آئی کا پمز میں طبی معائنہ ہوا، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ
حکومتی اخراجات
حکومتی نظام چلانے کے اخراجات کے لیے 971 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: منی بجٹ کے خدشات، نیا ٹیکس لگائے جانے کا امکان، آئی ایم ایف سے اجازت طلب
پنشنز اور سبسڈیز
پنشنز کی ادائیگی کے لیے 1055 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ سبسڈیز کی مد میں 1186 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی سے جمعرات کو رفقاء کی ملاقات کیلئے فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے
گرانٹس اور ترقیاتی بجٹ
گرانٹس کی مد میں 1928 ارب روپے رکھنے کی تجویز سامنے آئی ہے، جبکہ ترقیاتی بجٹ کے لیے 1000 روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
ریونیو ہدف
ایف بی آر ٹیکس وصولی کا ہدف 14131 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5167 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ فیڈرل گروس ریونیو کا ہدف 19298 ارب روپے جبکہ صوبوں کو محاصل کی منتقلی کا تخمینہ 8206 ارب روپے ہوگا۔ نیٹ فیڈرل ریونیو 11072 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔








