آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے اہم نکات سامنے آگئے
آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے اہم نکات سامنے آ گئے ہیں۔ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8207 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار کو عالمی سطح پر ایک اور ’’جھٹکا‘‘، آئی ایم ایف نے بھارتی معیشت کو سی گریڈ دیدیا۔
دفاعی بجٹ
جیو نیوز کے مطابق دفاع کے لیے 2550 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 10 ہزار کوٹہ کی تقسیم کا طریقہ کار مسترد کرتے ہیں، حکومت کو بڑے مالی سکینڈل کا سامنا کرنا پڑے گا: حج آرگنائزرز کی پریس کانفرنس
حکومتی اخراجات
حکومتی نظام چلانے کے اخراجات کے لیے 971 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 26ویں آئینی ترمیم کے بعد نوجوان وکلاء کے چہروں پر مایوسی دیکھی، مخدوم علی خان نے استعفیٰ میں کیا لکھا؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں
پنشنز اور سبسڈیز
پنشنز کی ادائیگی کے لیے 1055 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ سبسڈیز کی مد میں 1186 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گلوکار عاصم اظہر کے ساتھ منگنی ٹوٹنے کے بعد اداکارہ میرب نے حیران کن ویڈیو جاری کر دی
گرانٹس اور ترقیاتی بجٹ
گرانٹس کی مد میں 1928 ارب روپے رکھنے کی تجویز سامنے آئی ہے، جبکہ ترقیاتی بجٹ کے لیے 1000 روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
ریونیو ہدف
ایف بی آر ٹیکس وصولی کا ہدف 14131 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5167 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ فیڈرل گروس ریونیو کا ہدف 19298 ارب روپے جبکہ صوبوں کو محاصل کی منتقلی کا تخمینہ 8206 ارب روپے ہوگا۔ نیٹ فیڈرل ریونیو 11072 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔








