آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے اہم نکات سامنے آگئے
آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے اہم نکات سامنے آ گئے ہیں۔ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8207 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آرمی چیف سے سعودی وزیر سرمایہ کاری کی ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال
دفاعی بجٹ
جیو نیوز کے مطابق دفاع کے لیے 2550 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس افتخار چودھری ہر مسئلہ پر ازخود نوٹس لے لیتے، لیکن شوگر مل مالکان نے ججوں کو مسخر کر لیا، اصل مسئلہ کی سمجھ ہی آنے نہیں دی
حکومتی اخراجات
حکومتی نظام چلانے کے اخراجات کے لیے 971 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت، دہلی ہائیکورٹ نے اے آر رحمن پر 2 کروڑ روپے جرمانہ عائد کردیا
پنشنز اور سبسڈیز
پنشنز کی ادائیگی کے لیے 1055 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ سبسڈیز کی مد میں 1186 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عامر محمود کی صحافتی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی: کراچی یونین آف جرنلسٹس کا اظہار تعزیت
گرانٹس اور ترقیاتی بجٹ
گرانٹس کی مد میں 1928 ارب روپے رکھنے کی تجویز سامنے آئی ہے، جبکہ ترقیاتی بجٹ کے لیے 1000 روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
ریونیو ہدف
ایف بی آر ٹیکس وصولی کا ہدف 14131 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5167 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ فیڈرل گروس ریونیو کا ہدف 19298 ارب روپے جبکہ صوبوں کو محاصل کی منتقلی کا تخمینہ 8206 ارب روپے ہوگا۔ نیٹ فیڈرل ریونیو 11072 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔








