بجٹ 26-2025 آئندہ مالی سال کی قرض وصولیوں کے لیے پلان تیار
آئندہ مالی سال کا بجٹ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی بجٹ 26-2025 کے سلسلے میں حکومت نے آئندہ مالی سال کے دوران 25 ارب ڈالر سے زائد غیر ملکی قرض و امداد حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا ہے، جس میں مختلف ممالک اور مالیاتی اداروں سے قرضوں کی ری فنانسنگ اور نئی فنانسنگ شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب کا دورہ مکمل، اسلام آباد روانہ
قرضوں کی ری فنانسنگ
نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے مطابق ذرائع اقتصادی امور کا کہنا ہے کہ حکومت نے سعودی عرب، چین، متحدہ عرب امارات سمیت دیگر دوست ممالک سے تقریباً 12 ارب ڈالر کے قرضوں کو رول اوور کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وادی تیراہ سے لوگوں کے انخلا کو فوج سے جوڑنا غلط بیانی ہے، عطا اللہ تارڑ
پراجیکٹ فنانسنگ کا تخمینہ
آئندہ مالی سال کے لیے پراجیکٹ فنانسنگ کا تخمینہ 4.6 ارب ڈالر لگایا گیا ہے جس میں عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی ادارے شامل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سپارکو نے پاکستان کا دوسرا مقامی سیٹلائٹ EO-2 کامیابی سے لانچ کر دیا
چین سے قرض کی ری فنانسنگ
چین سے 3.2 ارب ڈالر کے کمرشل قرض کی ری فنانسنگ کرائی جائے گی جبکہ ایک ارب ڈالر کا نیا چینی کمرشل قرض بھی حاصل کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بارکھان میں کرش پلانٹ پر مسلح افراد کی فائرنگ، 3 مزدور اغوا، پولیس چوکی پر بھی حملہ
آئی ایم ایف سے مالی امداد
ذرائع کے مطابق دو ارب ڈالر کی قسط بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے حاصل کی جائے گی، جو پروگرام کا حصہ ہوگی، جب کہ سعودی آئل فیسیلیٹی اور دیگر مؤخر ادائیگیوں کی مد میں بھی دو ارب ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہائی ویز کے پل گرانا کون سے حقوق ہیں؟ سکول کالج بینکس جل رہے ہوں تو پھر محرومی کا بیانیہ نہیں بنتا: طلال چودھری
ذمہ داریاں اور مالی انتظامات
یو اے ای سے سیف ڈپازٹس کے رول اوور کی ذمہ داری سٹیٹ بینک کو سونپی گئی ہے، جبکہ آئی ایم ایف کے ای ایف ایف پروگرام کی قسطوں کی فراہمی کی ذمہ داری وزارت خزانہ کے ذمے ہوگی۔
اقتصادی امور ڈویژن کی ذمہ داری
اقتصادی امور ڈویژن کو آئندہ مالی سال کے دوران 19.5 ارب سے 20 ارب ڈالر تک کی فنانسنگ کا بندوبست کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔








