بجٹ 26-2025 آئندہ مالی سال کی قرض وصولیوں کے لیے پلان تیار
آئندہ مالی سال کا بجٹ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی بجٹ 26-2025 کے سلسلے میں حکومت نے آئندہ مالی سال کے دوران 25 ارب ڈالر سے زائد غیر ملکی قرض و امداد حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا ہے، جس میں مختلف ممالک اور مالیاتی اداروں سے قرضوں کی ری فنانسنگ اور نئی فنانسنگ شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عدالت نے پنجاب میں سینیٹ نشست پر انتخاب کو پٹیشن کے حتمی فیصلے سے مشروط کر دیا
قرضوں کی ری فنانسنگ
نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے مطابق ذرائع اقتصادی امور کا کہنا ہے کہ حکومت نے سعودی عرب، چین، متحدہ عرب امارات سمیت دیگر دوست ممالک سے تقریباً 12 ارب ڈالر کے قرضوں کو رول اوور کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی بنانے پر اتفاق ہو گیا، ملکی مسائل کے حل کے لیے سیاسی جماعتوں اور قومی اداروں سے رابطہ کیا جائے گا
پراجیکٹ فنانسنگ کا تخمینہ
آئندہ مالی سال کے لیے پراجیکٹ فنانسنگ کا تخمینہ 4.6 ارب ڈالر لگایا گیا ہے جس میں عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی ادارے شامل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: قومیں تعلیم اور انسانوں سے بنتی ہیں سونے چاندی سے نہیں، ڈاکٹر دلاور حسین نے سیکرٹری تعلیم سے اپنی لکھی ہوئی پالیسی واپس لی اور گھر آگئے
چین سے قرض کی ری فنانسنگ
چین سے 3.2 ارب ڈالر کے کمرشل قرض کی ری فنانسنگ کرائی جائے گی جبکہ ایک ارب ڈالر کا نیا چینی کمرشل قرض بھی حاصل کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انڈے مارنے والوں کے خلاف ثبوت موجود ہیں، ایونٹ انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے، چاہت فتح علی خان
آئی ایم ایف سے مالی امداد
ذرائع کے مطابق دو ارب ڈالر کی قسط بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے حاصل کی جائے گی، جو پروگرام کا حصہ ہوگی، جب کہ سعودی آئل فیسیلیٹی اور دیگر مؤخر ادائیگیوں کی مد میں بھی دو ارب ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 4 ماہ میں کیسز نمٹانے کے احکامات پر ناانصافی نہیں ہونی چاہئے، چیف جسٹس پاکستان کے فواد چودھری کی درخواست پر ریمارکس
ذمہ داریاں اور مالی انتظامات
یو اے ای سے سیف ڈپازٹس کے رول اوور کی ذمہ داری سٹیٹ بینک کو سونپی گئی ہے، جبکہ آئی ایم ایف کے ای ایف ایف پروگرام کی قسطوں کی فراہمی کی ذمہ داری وزارت خزانہ کے ذمے ہوگی۔
اقتصادی امور ڈویژن کی ذمہ داری
اقتصادی امور ڈویژن کو آئندہ مالی سال کے دوران 19.5 ارب سے 20 ارب ڈالر تک کی فنانسنگ کا بندوبست کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔








