نئے بجٹ میں پراپرٹی، رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو ریلیف ملنے کا امکان
نئے بجٹ میں ریلیف کی توقعات
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) نئے بجٹ میں پراپرٹی، رئیل سٹیٹ، اور تعمیراتی شعبے کو ریلیف ملنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ جلد ختم ہونے کے اعلان کے اثرات، خام تیل کی قیمتیں 8 فیصد گر گئیں
بجٹ 2025-26 کی تجاویز
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق، بجٹ 2025-26 کی ٹیکس تجاویز میں پراپرٹی اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) ختم کرنے کی تجویز ہے۔ ایف ای ڈی ختم کرنے کا اطلاق یکم جولائی 2025 سے کیا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں تعمیراتی شعبے میں سرگرمیاں اور ٹیکس آمدن بڑھنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی کوریا کی امریکی حملوں کی شدید مذمت، اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار
بلڈرز اور ڈویلپرز کی رجسٹریشن
اس کے علاوہ، ریئل سٹیٹ سیکٹر سے وابستہ بلڈرز اور ڈویلپرز کی رجسٹریشن شروع کرنے کی بھی تجویز ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کو تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے مراعات دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انوائرمنٹل اپرول مینجمنٹ سسٹم اور گاڑیوں کیلئے ایمیشن ٹیسٹنگ سسٹم لانچ، بلیو سکواڈ آبی ذخائرکو محفوظ رکھنے کا ذمہ دار قرار
سمندر پار پاکستانیوں کے لیے تجاویز
سمندر پار پاکستانیوں کے لیے پراپرٹی پر ایف ای ڈی ختم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس کی چھوٹ کے لیے این او سی کی شرط ختم ہونے کا امکان ہے۔
ایکسائز ڈیوٹی میں ممکنہ تبدیلیاں
پراپرٹی کی خریداری پر لیٹ اور نان فائلرز کے لیے ایکسائز ڈیوٹی میں ردوبدل کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ، بجٹ میں پراپرٹی ٹرانزیکشن پر ودہولڈنگ ٹیکس میں بھی ردوبدل کی تجویز دی گئی ہے۔








