نئے بجٹ میں پراپرٹی، رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو ریلیف ملنے کا امکان
نئے بجٹ میں ریلیف کی توقعات
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) نئے بجٹ میں پراپرٹی، رئیل سٹیٹ، اور تعمیراتی شعبے کو ریلیف ملنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین کی نسبت عشق میں ناکام مردوں میں موت کا امکان دگنا ہوتا ہے: تحقیق
بجٹ 2025-26 کی تجاویز
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق، بجٹ 2025-26 کی ٹیکس تجاویز میں پراپرٹی اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) ختم کرنے کی تجویز ہے۔ ایف ای ڈی ختم کرنے کا اطلاق یکم جولائی 2025 سے کیا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں تعمیراتی شعبے میں سرگرمیاں اور ٹیکس آمدن بڑھنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دوران پرواز مسافر کی طیارے کا دروازہ کھولنے کی کوشش، روکنے پر کریو ممبر پرحملہ کردیا
بلڈرز اور ڈویلپرز کی رجسٹریشن
اس کے علاوہ، ریئل سٹیٹ سیکٹر سے وابستہ بلڈرز اور ڈویلپرز کی رجسٹریشن شروع کرنے کی بھی تجویز ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کو تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے مراعات دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (منگل) کا دن کیسا رہے گا؟
سمندر پار پاکستانیوں کے لیے تجاویز
سمندر پار پاکستانیوں کے لیے پراپرٹی پر ایف ای ڈی ختم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس کی چھوٹ کے لیے این او سی کی شرط ختم ہونے کا امکان ہے۔
ایکسائز ڈیوٹی میں ممکنہ تبدیلیاں
پراپرٹی کی خریداری پر لیٹ اور نان فائلرز کے لیے ایکسائز ڈیوٹی میں ردوبدل کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ، بجٹ میں پراپرٹی ٹرانزیکشن پر ودہولڈنگ ٹیکس میں بھی ردوبدل کی تجویز دی گئی ہے۔








