بجٹ عوامی فلاح کے بجائے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شرائط کو پورا کرنے کی ایک مشق معلوم ہوتا ہے، اسد قیصر
بجٹ کی نئی تشکیلات پر اسد قیصر کا ردعمل
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی اسمبلی کے سابق سپیکر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے ایک ایسا بجٹ پیش کیا ہے جس سے عوام کی زندگیاں مزید اجیرن ہو جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایکسپورٹ فیسلیٹیشن سکیم چوری کا ذریعہ بن گئی، حکومت کو 25 ارب کا نقصان، دوہرا معیار ختم کیا جائے:سلیم ولی محمد
ای کامرس اور نوجوانوں کے روزگار پر اثرات
اس بجٹ میں ای کامرس جیسے ابھرتے ہوئے شعبے پر مزید ٹیکسز عائد کیے گئے ہیں، جس سے نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہوں گے بلکہ ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کی کوششوں کو بھی شدید دھچکا لگے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 12 ارب ڈالر سےتجاوز کر گئے، وفاقی وزیر خزانہ
تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر بلاواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ بڑھا دیا گیا ہے، جبکہ بڑی کارپوریشنز اور اشرافیہ کو بدستور ریلیف دیا جا رہا ہے، جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایکواڈور میں نائٹ کلب میں فائرنگ سے 8 افراد ہلاک
عوام کی موجودہ مشکلات
عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بے یقینی کا شکار ہیں، ایسے میں بجٹ میں روزمرہ استعمال کی اشیاء پر ٹیکس میں اضافہ کر کے عام شہری کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹریفک پولیس اہلکار کو مارنے اور خوف و ہراس پھیلانے کا کیس، ملزم درخواست ضمانت خارج
چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد کا استحصال
ان کا مزید کہنا تھا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد، جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کے لیے نہ کوئی سہولت دی گئی ہے اور نہ ہی آسان قرض سکیموں کا اعلان کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی نے پہلے کابینہ اجلاس میں خیبرپختونخوا حکومت کی سرمایہ کاری میں سود کے خاتمے کا اعلان کردیا
زرعی شعبے اور بنیادی سہولیات کی صورت حال
زرعی شعبے کو بھی مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے، حالانکہ یہی شعبہ دیہی معیشت کے استحکام اور خوراک کی قیمتوں میں توازن کے لیے نہایت اہم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حضرت امیر خسروؒ کے عرس میں شرکت کیلئے 188 پاکستانی زائرین کو ویزے جاری
بنیادی شعبوں کے لیے ناکافی فنڈز
اس کے ساتھ ساتھ تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں کے لیے ناکافی فنڈز مختص کیے گئے ہیں، جو کہ حکومت کی ترجیحات پر سوالیہ نشان ہے۔
بجٹ کے مقاصد پر سوالات
مجموعی طور پر یہ بجٹ عوامی فلاح کے بجائے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شرائط کو پورا کرنے کی ایک مشق معلوم ہوتا ہے، جس کا مقصد عام آدمی کو ریلیف دینا نہیں بلکہ اس پر مزید بوجھ ڈالنا ہے۔








