وفاقی بجٹ، زبانی جمع خرچ، جھوٹے وعدے اور اعداد و شمار کا گورکھ دھندہ
تحریر کا آغاز
تحریر: خالد شہزاد فاروقی
سال 2025-26 کا وفاقی بجٹ پیش کیا گیا تو حسب روایت حکومت نے “اپنی کارکردگی کی قصیدہ گوئی” کے ساتھ “خوش فہمیوں” کے انبار لگا دیے۔۔۔
یہ بھی پڑھیں: چین کے وزیراعظم چواین لائی نے پاکستان کا دورہ کیا، عالمی سیاست نے نئی کروٹ لی، دورہ ختم ہوتے ہی امریکہ نے پاکستان کی امداد بند کر دی
بجٹ کی تفصیلات
وزراء نے دعویٰ کیا کہ یہ بجٹ عام آدمی کے لیے ہے، ملکی معیشت کو مستحکم کرے گا اور ترقی کی نئی راہیں کھولے گا مگر جب اس بجٹ کی تفصیلات پر نگاہ دوڑائی جائے تو یہ سب دعوے محض زبانی جمع خرچ، جھوٹے وعدے اور “اعداد و شمار کا گورکھ دھندہ” محسوس ہوتے ہیں۔۔۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش اور بھارت کے سفارتی تعلقات میں ’’نیا موڑ‘‘، ڈھاکہ نے بڑا قدم اٹھا لیا
معاشی چیلنجز
ایک ایسے وقت میں جب ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، بیروزگاری عام ہے، صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور تعلیم و صحت کی صورتحال ابتر ہے، وہاں یہ بجٹ محض “طاقتور طبقے کی خوشنودی” اور عالمی مالیاتی اداروں کی خوشی حاصل کرنے کی ایک کوشش لگتا ہے۔۔۔
یہ بھی پڑھیں: صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود انتقال کر گئے
بجٹ کی تفصیلات کی حقیقت
کل وفاقی اخراجات کا تخمینہ 17.5 ہزار ارب روپے لگایا گیا ہے جو کہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ ہے مگر جب ہم اس خطیر رقم کا تجزیہ کرتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ بجٹ کا بیشتر حصہ عوامی فلاح و بہبود کے بجائے قرضوں کی ادائیگی، دفاعی اخراجات اور اشرافیہ کی مراعات پر مشتمل ہے۔۔۔
یہ بھی پڑھیں: بشارالاسد کون ، اقتدار کیسے ملا؟ وہ تمام باتیں جو آپ جاننا چاہتے ہیں
سودی چکر
سب سے بڑا جھٹکا یہ ہے کہ اس بجٹ کا 46.7 فیصد حصہ یعنی تقریباً آدھا، محض سود کی ادائیگیوں کے لیے مختص کر دیا گیا ہے۔۔۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جو ہماری معاشی خودمختاری کو نگل رہا ہے۔۔۔
یہ بھی پڑھیں: نہیں لگتا پی ٹی آئی کا آئندہ کوئی اور شو ہوگا: خواجہ آصف
عوامی فلاح و بہبود کے لیے کم سرمایہ کاری
ملک کے بنیادی مسائل مثلاً تعلیم، صحت، زراعت، صنعتی ترقی اور روزگار پر خرچ کرنے کے بجائے “سود خور نظام” کی پرورش کی جا رہی ہے۔۔۔
یہ بھی پڑھیں: سابق کرکٹرز بابراعظم سے حسد کرتے ہیں، اعظم خان
دفاعی اخراجات
دفاعی اخراجات 14.5 فیصد رکھے گئے ہیں۔۔۔ اگرچہ قومی سلامتی بے حد اہم ہے مگر سوال یہ ہے کہ جب ملک کا اندرونی معاشی و سماجی ڈھانچہ برباد ہو چکا ہو، تو کیا ہم خالی بندوقوں سے قومی سلامتی کو یقینی بنا سکتے ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا کیخلاف سیریز کیلئے پاکستانی ٹیم میں بڑی تبدیلیوں کا امکان
گرنٹس اور سبسڈی
گرانٹس یعنی سرکاری اداروں کو دی جانے والی بلا سود امداد 11 فیصد ہے، جبکہ سبسڈی صرف 6.7 فیصد رکھی گئی ہے، حالانکہ مہنگائی کی شدت نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔۔۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بسنت کیلئے ضلعی انتظامیہ نے پتنگ سازوں کی رجسٹریشن فیس طے کردی
بنیادی خدمات کی خراب صورتحال
تعلیم اور صحت کی صورتحال تو انتہائی دردناک ہے۔۔۔ ہزاروں سکول بغیر اساتذہ، لاکھوں بچے سکول سے باہر، سرکاری ہسپتال دوائیوں سے خالی۔۔۔ مگر ان دو اہم شعبوں پر بجٹ میں کوئی توجہ نہیں دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیر اہتمام کل جماعتی کانفرنس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا
حکومتی ناکامی
ایک ایسا بجٹ جس میں آدھی سے زیادہ رقم سود میں چلی جائے، باقی دفاع، گرانٹس، بیوروکریسی اور سیاسی اشرافیہ کی عیاشی پر خرچ ہو اور عوام کے لیے چند فیصد چھوڑ دیے جائیں، اسے “عوام دوست بجٹ” کہنا خود فریبی ہے۔۔۔
یہ بھی پڑھیں: قتل کیس کے سزایافتہ قیدی کی بانی پی ٹی آئی جیسی سہولیات کی درخواست، اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیل سپرنٹنڈنٹ سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیئے۔
حکومت کی نااہلی
عوام کو اس وقت صرف مہنگائی ہی نہیں مار رہی بلکہ حکومت کی نااہلی، بدنیتی اور غلامانہ سوچ بھی اس بربادی کی بڑی وجہ ہے۔۔۔
یہ بھی پڑھیں: آج رات 12 بجے سے انٹرنیٹ سروس بند کرنے کا فیصلہ
عملی جدوجہد کی ضرورت
یہ وقت محض تنقید کا نہیں، عملی جدوجہد کا ہے۔۔۔ ملک کو قرضوں کے چنگل سے نکالنے اور حقیقی ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔
یہ بھی پڑھیں: چین اب ایران سے تیل خریدنا جاری رکھ سکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
نوٹ
نوٹ: یہ مصنفہ کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
شمولیت کی دعوت
اگر آپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ‘[email protected]‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔








