کمسن بچے سے زیادتی، قتل کا کیس: مجرم ندیم کی اپیل خارج، سزائے موت برقرار
لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے کمسن بچے سے بدفعلی کے بعد کرنٹ لگا کر قتل کرنے کے مجرم ندیم اسلم کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: اندراجِ مقدمہ سے انکار یا تاخیر نہیں کی جا سکتی، پولیس کے رویے کیخلاف سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ۔
فیصلہ سنانے والے بنچ کا بیان
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ ایسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں جنگ، سندھ حکومت نے بھی 31 مارچ تک سکولز بند رکھنے کا اعلان کر دیا
مجرم کی گھناؤنی کارروائی
مجرم ندیم اسلم کے خلاف مقدمہ تھانہ ہنجروال لاہور میں درج کیا گیا تھا جس میں اس پر الزام تھا کہ اس نے ساڑھے 3 سالہ بچے کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد کرنٹ لگا کر بے دردی سے قتل کیا۔ سیشن عدالت لاہور نے 2022 میں مجرم کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے محفوظ مقامات پر منتقل کیے جانے والے مویشیوں کو چارے کی فراہمی شروع کر دی
اپیل کا فیصلہ
مجرم نے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی جسے عدالت نے شواہد اور دلائل کی روشنی میں خارج کر دیا، مقتول بچے کی جانب سے مقدمے میں ایڈووکیٹ امتیاز پاہٹ نے پیروی کی۔
چیف جسٹس کا ریمارکس
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ایسے گھناؤنے جرائم سے معاشرہ لرز اٹھتا ہے اور مجرم کسی بھی قسم کی نرمی یا رعایت کے مستحق نہیں ہوتے۔








