اسرائیلی فورسز کی فائرنگ، ڈرون حملہ، امداد کے متلاشی 25 فلسطینیوں سمیت 29 شہید
اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شہادتیں
غزہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیلی افواج نے فائرنگ کرکے امداد کے متلاشی کم از کم 25 فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے، یہ واقعہ غزہ شہر کے جنوب میں نام نہاد نیٹرازیم کوریڈور کے قریب خوراک کی تقسیم کے مقام پر پیش آیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرخارجہ اسحٰق ڈار کا ازبکستان کے ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، ریلوے پروجیکٹ پر تبادلہ خیال
ڈرون حملہ اور اس کے نتائج
ڈان کے مطابق قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے طبی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جنوبی غزہ میں خان یونس شہر کے شمال میں القرارہ قصبے کے قریب الواقع المواسی علاقے میں اسرائیلی ڈرون حملے میں بے گھر افراد کے خیمے کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 4 فلسطینی شہید ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی ڈاٹس کو جوڑیں اور تجزیہ کریں علی امین کے اقدامات سے کس کو فائدہ اور کس کو نقصان ہوا: محمد مالک
امدادی کشتی کا واقعہ
اسرائیل نے غزہ جانے والی امدادی کشتی کو روکنے کے بعد اس پر سوار 12 کارکنوں میں سے 4 کو ملک بدر کر دیا ہے، جن میں سویڈن کی مہم چلانے والی گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں، دیگر 8 کارکنوں کو اسرائیل چھوڑنے سے انکار پر حراست میں لے لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بوستان جنکشن سے اگلا اسٹیشن ”یارو“ ہے، اس کو دیکھتے ہی گانا یاد آجاتا ہے ”یارو مجھے معاف کرو میں نشے میں ہوں“ نشہ تو یارو کے قریب بھی ہے۔
جنگ کے نقصانات
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل کی غزہ پر مسلط کردہ جنگ کے نتیجے میں اب تک کم از کم 55 ہزار فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 27 ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں میں اسرائیل میں تقریباً ایک ہزار 139 افراد ہلاک ہوئے تھے، اور 200 سے زائد افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: یحییٰ آفریدی اپنی باری پر چیف جسٹس بنیں، ابھی عہدہ قبول نہ کریں: حامد خان کی اپیل
امریکی سفیر کا بیان
اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کا قیام ’ہماری زندگی میں ممکن نہیں‘۔ ہکابی پرجوش ایوینجلیکل عیسائی اور اسرائیلی بستیوں کے پھیلاؤ کے زبردست حامی ہیں، انہوں نے کہا کہ ’شک ہے کہ فلسطینی ریاست کا قیام اب بھی امریکی خارجہ پالیسی کا ہدف ہے‘۔
یہ بھی پڑھیں: سکردو میں لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آ کر 5 افراد جاں بحق
گریٹا تھنبرگ کا وطن واپس پہنچنا
فلسطین میں امداد پہنچانے کے لیے انسانی حقوق کی سرگرم کارکن گریٹا تھنبرگ اسرائیل سے ملک بدری کے بعد سویڈن واپس پہنچ گئیں۔ تھنبرگ، 12 کارکنوں اور صحافیوں کے اُس گروپ میں شامل تھیں جنہوں نے غزہ جانے والی ایک انسانی ہمدردی کی امدادی کشتی پر سفر شروع کیا تھا۔
بین الاقوامی تنقید اور وزیر اعظم کا موقف
آسٹریلیا، کینیڈا، نیوزی لینڈ، ناروے اور برطانیہ نے اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزرا ایتامار بن گویر اور بیزالیل سموٹریچ پر پابندیاں عائد کر دی تھیں، ان پر مقبوضہ مغربی کنارے میں بار بار فلسطینیوں کے خلاف تشدد کو ہوا دینے کا الزام ہے۔ آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز نے ان پابندیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت کو بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔








