فرانس: 15 سالہ طالبعلم کے چاقو کے وار سے ٹیچنگ اسسٹنٹ جاں بحق
نئی تشویش: مشرقی فرانس میں سکول میں ہنگامہ
پیر س (ڈیلی پاکستان آن لائن) مشرقی فرانس کے ایک سکول میں 15 سالہ طالبعلم نے ایک 31 سالہ خاتون ٹیچنگ اسسٹنٹ کو چاقو مار کر قتل کر دیا۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب خاتون سکول کے گیٹ پر طلبہ کی بیگ چیکنگ کر رہی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس آج طلب، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر غور ہوگا
صدر کا بیان
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اس واقعے کو "بے معنی تشدد کی لہر" قرار دیتے ہوئے کہا کہ "قوم سوگ میں ہے اور حکومت جرائم کی روک تھام کے لیے متحرک ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: دنیا میں بڑھتے تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ ہیں،اسحاق ڈار
حملہ آور کی گرفتاری
پولیس کے مطابق حملہ آور طالبعلم کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے خلاف پہلے کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ واقعے کے بعد وزیر تعلیم ایلزبتھ بورنے متاثرہ اسکول پہنچ گئیں تاکہ سکول کمیونٹی اور پولیس اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی چاول کی قیمتوں میں کمی سے یورپین یونین میں پاکستانی چاول کی فروخت میں کمی کا خطرہ
اساتذہ کی نمائندگی
اساتذہ کی یونین SE-UNSA کی سیکرٹری جنرل الیزبتھ آلین مورینو نے کہا، "خاتون اسسٹنٹ صرف اپنا فرض ادا کر رہی تھیں۔ اس واقعے نے ثابت کر دیا کہ سیکیورٹی کے باوجود مکمل تحفظ ممکن نہیں۔ ہمیں احتیاطی تدابیر پر توجہ دینا ہو گی۔"
یہ بھی پڑھیں: چند سو لوگوں کی گرفتاری کافی نہیں، ہم تو یہ چاہتے ہیں افغان سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو، امن ہی واحد راستہ ہے: وزیر خارجہ
تعلیمی ماہرین کا خدشہ
نیشنل یونین آف سیکنڈری سکولز کے سربراہ ژاں ریمی جیرارڈ نے کہا، "ہر لمحہ چوکنا رہنا ممکن نہیں۔ ہر طالبعلم کو خطرہ سمجھنا بھی غیر حقیقی ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوبر بیوی نے آشناکے ساتھ شرمناک حالت میں پکڑے جانے کے بعد شوہر کے ساتھ کیا کیا؟ افسوسناک انکشاف
دائیں بازو کی جماعت کا مؤقف
فرانسیسی دائیں بازو کی جماعت کی رہنما مارین لی پین نے سکولوں میں بڑھتے ہوئے تشدد کو "حکام کی بے حسی" کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ "عوام سخت، مؤثر اور فیصلہ کن اقدام چاہتے ہیں۔"
سخت چیکنگ کی حکمت عملی
یاد رہے کہ مارچ سے فرانس میں سکولوں کے اطراف چاقو اور ہتھیاروں کی بے ترتیب تلاشی کا عمل شروع کیا گیا تھا۔ اپریل میں نانتس کے ایک سکول میں چاقو حملے کے بعد، حکومت نے چیکنگ مزید سخت کرنے کا اعلان کیا تھا۔








