پاکستان میں صرف 5 فیصد افراد نے ٹیکس دینا ہے وہ بھی نہیں دے رہے : چیئرمین ایف بی آر
پاکستان میں ٹیکس کی صورتحال
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیئرمین ایف بی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف 5 فیصد افراد نے ہی ٹیکس دینا ہے لیکن وہ بھی نہیں دے رہے۔ ملک میں سالانہ 7100 ارب روپے کے ٹیکس گیپ کی نشاندہی کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنرل عاصم منیر میری جان، مودی کی دھمکیوں پر پنجابی ٹپے
مینوفیکچرنگ سیکٹر اور ریونیو نقصان
مینوفیکچرنگ سیکٹر سے 3100 ارب روپے کا ٹیکس نہیں آتا، بارڈر پر سمگلنگ سے 500 ارب روپے ریونیو کے نقصانات ہورہے ہیں۔ شوگر سیکٹر کی مانیٹرنگ بہتر ہونے سے ٹیکس ریونیو میں 50 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودیہ میں یوم پاکستان کی مرکزی تقریب پاکستان قونصلیٹ کی نئی عمارت میں منعقد کی گئی
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس
نجی ٹی وی سماء کے مطابق سید نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا، جس میں چیئرمین ایف بی آر راشد محمد لنگڑیال نے فنانس بل پر بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب دوسرے ملکوں سے کم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نصیب لال اور نور جہاں کے گانوں پر تین مقدمات، یاسر شامی نے ایف آئی آرز کا پوسٹ مارٹم کردیا، ویڈیو
ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب
رواں مالی سال اس شرح کو 8 فیصد سے بڑھا کر 10.5 فیصد کیا گیا ہے۔ بھارت 13.4 فیصد سے 18.5 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو لے کر گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی پولیس نے نالے سے ملنے والی خاتون کی لاش کا معمہ حل کر لیا، تہلکہ خیز انکشافات
آبادی کا تجزیہ
راشد محمد لنگڑیال کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آمدن کے لحاظ سے 6 لاکھ 70 ہزار گھرانے ٹاپ کیٹیگری میں شامل ہیں۔ ملک کی 6 کروڑ 70 لاکھ آبادی برسر روزگار ہے، جبکہ بچوں اور بوڑھوں سمیت 13 کروڑ 20 لاکھ کی آبادی لیبر فورس سے باہر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا چائلڈ لیبر کے لیے ماہانہ وظیفے دینے کا فیصلہ
مسائل اور چیلنجز
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ 5 فیصد افراد نے ٹیکس دینا ہے، لیکن وہ نہیں دے رہے۔ چاغی ضلع کے بارڈر پر سمگلنگ ہورہی ہے، جس کی وجہ سے ریونیو نقصان ہورہا ہے۔
بہتری کے اقدامات
شوگر سیکٹر کے مانیٹرنگ میں بہتری سے ٹیکس ریونیو میں 50 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ ایرانی پیٹرول کی سمگلنگ روکنے سے ملک کا درآمدی بل بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان میں 94 فیصد گھرانوں کے پاس ایئرکنڈیشن کی سہولت نہیں ہے۔ سمگلنگ روکنے کیلئے کارگو ٹریکنگ سسٹم متعارف کرا رہے ہیں، اور مختلف علاقوں میں ڈیجیٹل انفورسمنٹ سٹیشنز قائم کررہے ہیں۔








