اسرائیل اور ایران کا بڑھتا تنازع: امریکی صدر ٹرمپ کے مؤقف میں مسلسل تبدیلی
امریکی صدر ٹرمپ کا متغیر مؤقف
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیل اور ایران کے بڑھتے تنازع کے دوران امریکی صدر ٹرمپ کے مؤقف میں مسلسل تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ینگوو بائیک، ایک آسان اور کم خرچ سفر کی نئی سہولت
حملوں پر ابتدائی ردعمل
نجی ٹی وی ڈان نیوز نے بی بی سی نیوز کے حوالے سے بتایا کہ جب جمعہ کو اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فوری طور پر اس کارروائی کو یکطرفہ قرار دیا اور ٹرمپ انتظامیہ نے اس سے دوری اختیار کی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان جنوبی افریقہ سیریز کے لیے وینیوز کو حتمی شکل دیدی گئی
صدر کی نئی حکمت عملی
لیکن اب صدر اس آپریشن کو مزید کھلے دل سے قبول کرنے لگے ہیں، وہ اس کارروائی کو ’بہترین‘ کے طور پر بیان کر رہے، اور ان حملوں میں استعمال ہونے والے ’امریکی عسکری سازوسامان‘ کی تعریف کر رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس سے یہ بھی سنا گیا ہے کہ امریکی اہلکار ایرانی میزائلوں کو روکنے میں مدد کرتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کوہستان کرپشن اسکینڈل، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اکاؤنٹنٹ جنرل کے تبادلے پر برہمی کا اظہار
داخلی اور خارجی خطرات
داخلی طور پر یہ صدر ٹرمپ کو ایک خطرناک پوزیشن میں لا کھڑا کرتا ہے، ریپبلکن اور اس کی بنیاد میں اسرائیل کے لیے حمایت مضبوط ہے، لیکن غیر ملکی جنگوں میں امریکہ کی شمولیت کے بارے میں گہرے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پورٹریٹ مہارت کے نئے دور کا آغاز، ویوو نے پاکستان میں V60 متعارف کروا دیا
ماضی کے وعدے اور موجودہ چیلنجز
ٹرمپ بہت عرصے سے نئی جنگوں کو شروع کرنے کی جاری جنگوں کو ختم کرنے کا وعدہ کرتے آئے ہیں، انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ 24 گھنٹوں میں یوکرین میں لڑائی رکوا سکتے ہیں اور غزہ میں قید تمام یرغما لیوں کو رہا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
جوہری مذاکرات کا امکان
حتیٰ کہ آج بھی انھوں نے اتوار کو ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کو بحال کرنے کا خیال پیش کیا، لیکن تہران اس سے دستبردار ہو گیا ہے۔ سیاست کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کا نام ہے اور صدر ٹرمپ ان اہم وعدوں میں سے کچھ کو پورا نہ کرنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔








