اسرائیل اور ایران کا بڑھتا تنازع: امریکی صدر ٹرمپ کے مؤقف میں مسلسل تبدیلی
امریکی صدر ٹرمپ کا متغیر مؤقف
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیل اور ایران کے بڑھتے تنازع کے دوران امریکی صدر ٹرمپ کے مؤقف میں مسلسل تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے غیر ملکی جہاز پکڑلیا، کیا لیجا رہا تھا اور عملے کا تعلق کس ملک سے ہے؟ جانیے
حملوں پر ابتدائی ردعمل
نجی ٹی وی ڈان نیوز نے بی بی سی نیوز کے حوالے سے بتایا کہ جب جمعہ کو اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فوری طور پر اس کارروائی کو یکطرفہ قرار دیا اور ٹرمپ انتظامیہ نے اس سے دوری اختیار کی۔
یہ بھی پڑھیں: 8 فروری احتجاج کے روز انہوں نے بسنت کا اعلان کر دیا ہے تو اب زمین اور آسمان پر بھی عمران خان کی پتنگوں سے احتجاج ہوگا، نورین نیازی
صدر کی نئی حکمت عملی
لیکن اب صدر اس آپریشن کو مزید کھلے دل سے قبول کرنے لگے ہیں، وہ اس کارروائی کو ’بہترین‘ کے طور پر بیان کر رہے، اور ان حملوں میں استعمال ہونے والے ’امریکی عسکری سازوسامان‘ کی تعریف کر رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس سے یہ بھی سنا گیا ہے کہ امریکی اہلکار ایرانی میزائلوں کو روکنے میں مدد کرتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مزید کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن اور بروقت جواب دیا جائے گا: ایرانی قومی سلامتی کونسل
داخلی اور خارجی خطرات
داخلی طور پر یہ صدر ٹرمپ کو ایک خطرناک پوزیشن میں لا کھڑا کرتا ہے، ریپبلکن اور اس کی بنیاد میں اسرائیل کے لیے حمایت مضبوط ہے، لیکن غیر ملکی جنگوں میں امریکہ کی شمولیت کے بارے میں گہرے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جیسے ہی بائیں گھومی میری چھٹی حس نے اشارہ دیا کچھ ہونے والا تھا، اس سے پہلے کہ دماغ میں آئے خطرے کو میں زبان پر لاتا زور کا دھماکہ ہوا
ماضی کے وعدے اور موجودہ چیلنجز
ٹرمپ بہت عرصے سے نئی جنگوں کو شروع کرنے کی جاری جنگوں کو ختم کرنے کا وعدہ کرتے آئے ہیں، انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ 24 گھنٹوں میں یوکرین میں لڑائی رکوا سکتے ہیں اور غزہ میں قید تمام یرغما لیوں کو رہا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
جوہری مذاکرات کا امکان
حتیٰ کہ آج بھی انھوں نے اتوار کو ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کو بحال کرنے کا خیال پیش کیا، لیکن تہران اس سے دستبردار ہو گیا ہے۔ سیاست کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کا نام ہے اور صدر ٹرمپ ان اہم وعدوں میں سے کچھ کو پورا نہ کرنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔








