ایران کی جوابی کارروائی میں اسرائیل میں ہلاکتوں کی تعداد کتنی ہوگئی؟
ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں شدت آ گئی ہے جس کے نتیجے میں دونوں جانب درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیل میں حکام کے مطابق اب تک کم از کم 13 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں تین بچے بھی شامل ہیں، جبکہ ایرانی حکام کے مطابق ان کے ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 78 سے تجاوز کر چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 1986ء میں ایشیئن ٹریننگ سنٹر میں ساؤتھ ایشیاء کے دیگر ممالک کے مندوبین کیساتھ ایک ماہ تک تھائی لینڈ فیملی پلاننگ پروگرام کو سٹڈی کرنے کا موقع ملا۔
اسرائیلی وزیر اعظم کی دھمکی
سی این این کے مطابق صورتحال کے بگڑتے ہوئے منظرنامے میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل "آیت اللہ کے نظام کے ہر مقام اور ہر ہدف کو نشانہ بنائے گا"۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی محض چند دنوں پر محیط نہیں بلکہ "ہفتوں" تک جاری رہ سکتی ہے۔ وائٹ ہاؤس اور اسرائیلی حکام کے مطابق اس کارروائی کو امریکی انتظامیہ کی خاموش منظوری حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یقین کریں یہ بڑے افسردہ اور دل دکھا دینے والے جنازے تھے ہر آنکھ آشک بار ہر دل اداس،اپنے نہ ہوتے ہو ئے بھی وہ اپنے تھے، دھرتی کے سپوت
امریکی صدر کا بیان
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی صبح بیان دیا کہ "آج رات ایران پر ہونے والے حملے میں امریکہ کا کوئی کردار نہیں ہے"۔ تاہم انہوں نے تہران کو متنبہ کیا کہ اگر ایران نے امریکی مفادات یا اہداف کو نشانہ بنایا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: آخری رسومات کے اخراجات سے بچنے کے لئے بیٹے نے والد کی لاش الماری میں چھپا دی
فضائی حملے اور ان کے اثرات
اسرائیلی فضائیہ نے تہران میں کئی اہداف پر حملے کیے ہیں جنہیں "خفیہ معلومات کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا"۔ ان حملوں میں ایران کی وزارتِ دفاع کے صدر دفتر کو بھی ہدف بنایا گیا، اگرچہ ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق صرف ایک انتظامی عمارت کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔
مذاکرات کی منسوخی
اس تمام تر صورتحال کے باعث عمان میں طے شدہ امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا اگلا دور منسوخ کر دیا گیا ہے۔ عمان کے وزیرِ خارجہ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایرانی حکام نے اسرائیلی حملوں کی موجودگی میں مذاکرات کو "غیر منطقی" قرار دیا ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا ہے کہ جب تک اسرائیلی جارحیت جاری ہے، ایسے کسی بھی مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں۔








