برطانیہ کا مشرقِ وسطیٰ میں فوجی طیارے تعینات کرنے کا فیصلہ
برطانیہ کے وزیراعظم کی اسرائیل کے دفاع میں مضبوطی
لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) برطانیہ کے وزیراعظم سٹارمر نے G7 سربراہی اجلاس کے لیے روانگی کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کی جانب سے دی گئی دھمکیوں کے باوجود اسرائیل کے دفاع کو مسترد کرنے سے انکار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب کے ڈپٹی کمشنرز کو پانی کے بچاؤ کے لیے مراسلہ جاری کرنے کا حکم
برطانیہ کے مفاد میں فیصلے
روزنامہ امت کے مطابق انہوں نے کہا کہ "میں ہمیشہ برطانیہ کے مفاد میں درست فیصلے کروں گا۔" ہم خطے میں فوجی اثاثے منتقل کر رہے ہیں، جن میں طیارے بھی شامل ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: منڈی بہاؤالدین میں ایچ پی وی ویکسین لگانے پر 15 خواتین نے لیڈی ہیلتھ ورکر کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، مقدمہ درج
فوجی اثاثوں کی تعیناتی
ڈاؤننگ سٹریٹ کے مطابق ان اقدامات میں اضافی فاسٹ جیٹ طیاروں اور ایندھن بھرنے والے طیاروں کی تعیناتی شامل ہے، تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کی صورت میں فضائی معاونت فراہم کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: بلاول بھٹوزرداری نے وزیراعظم بننے کی پیشکش کو ٹھوکر مار کر مسترد کردیا تھا، مرتضیٰ وہاب
ایران کی جوابی کارروائی کا خدشہ
یہ تیاری جمعہ کی صبح شروع کی گئی، جب اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام اور اعلیٰ عسکری قیادت کو نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کا عندیہ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے دفاع انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کو بھی عہدے سے ہٹا دیا کیونکہ ۔ ۔ ۔
مجوزہ براہ راست مدد
اس سوال پر کہ آیا برطانیہ اسرائیل کو ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں سے بچانے میں براہ راست مدد دے گا، جس پر ایران نے برطانوی اڈوں کو ہدف بنانے کی دھمکی دی ہے۔ سٹارمر نے تفصیل بتانے سے گریز کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کسی کی خواہش پر قوم پرامن احتجاج سے دستبردار نہیں ہوگی، ترجمان پی ٹی آئی
متغیر صورتحال
انہوں نے کہا کہ "یہ عملیاتی فیصلے ہیں، اور صورتحال مسلسل بدل رہی ہے، اس لیے میں ان کی تفصیلات میں نہیں جاؤں گا۔" لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ ہم خطے میں فوجی وسائل کی منتقلی کر رہے ہیں، اور یہ عمل جاری ہے۔
عالمی برادری کی اپیلیں
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عالمی برادری، خاص طور پر مغربی ممالک، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی اپیلیں کر رہے ہیں، جبکہ خطے میں ایک بڑے تنازعے کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔








