جوڈیشل کونسل کسی جج کی برطرفی کی سفارش کرے تو کیا صدر اپنا ذہن اپلائی کرے گا؟ آئینی بنچ کا بیرسٹر صلاح الدین سے استفسار
اسلام آباد میں سپریم کورٹ کا اہم کیس
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) میں سپریم کورٹ کے آئینی بنچ میں ججز کی ٹرانسفر کے معاملے پر سماعت ہوئی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے سوال اٹھایا کہ کیا جوڈیشل کونسل کی سفارشات پر صدر اپنا ذہن صرف خود کے لیے استعمال کرے گا؟
یہ بھی پڑھیں: جنگ بندی کا اعلان ہوتے ہی ایران میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، خوشی کا اظہار
جوڈیشل کونسل کی سفارشات
عدالت نے مزید کہا کہ اگر جوڈیشل کونسل کسی جج کی برطرفی کی سفارش کرتی ہے تو کیا صدر اپنے ذہن کو استعمال کرے گا؟ بیرسٹر صلاح الدین نے وضاحت کی کہ سیاسی حکومت کی ایڈوائس کی روشنی میں صدر کو اپنا ذہن اپلائی کرنا ہوگا، اور اگر جوڈیشل کونسل جج برطرفی کی سفارش کرے تو صدر کو اس پر عمل کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں چینی کی قیمت آسمان کو چھونے لگی، فی کلو 229 روپے ہو گئی
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بنچ نے کی۔ ججز ٹرانسفر کیس میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے متفرق درخواست دائر کی۔ جسٹس صلاح الدین پنہور نے دریافت کیا کہ آیا ایڈووکیٹ جنرل نے کوئی درخواست دائر کی ہے، جس پر امجد پرویز نے بتایا کہ انہوں نے 1947 سے 1976 تک ججز ٹرانسفر کی مکمل تاریخ پیش کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قاسم اور سلیمان کو ویزے کی ضرورت نہیں وہ نائیکوپ پر پاکستان آسکتے ہیں، وزیراطلاعات عطا تارڑ
عدالت کے سوالات
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ نوٹس فریق بننے کے لئے ہی ہوتا ہے اور آپ کو اٹارنی جنرل کے بعد دلائل دینے چاہئیں تھے۔ جب لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار نے کمنٹس جمع کروائے تو آپ مرکزی فریق ہیں۔ جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ بیرسٹر صلاح الدین کے دلائل ختم ہونے کے بعد آپ کو سنیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ کا ہفتے میں 4 دن کام کرنے کا فیصلہ، نوٹیفکیشن جاری
سنیارٹی کا اصول
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ عدالتی فیصلے موجود ہیں کہ سنیارٹی تقرری کے دن سے شمار ہوگی۔ اگر جج ہائیکورٹ میں تبادلہ پر آتا ہے تو اس کی پہلی سنیارٹی کا کیا ہوگا؟ بیرسٹر صلاح الدین نے وضاحت کی کہ دیکھنا ہوگا کیا صدر کو اپنا اختیار آزادانہ استعمال کرنا ہوگا۔
قاضی فائز عیسیٰ کیس کا حوالہ
قاضی فائز عیسیٰ کیس میں یہ قرار دیا گیا کہ صدر کو اپنا مائنڈ اپلائی کرنا چاہیے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے دوبارہ سوال کیا کہ کیا اس اصول کے تحت جوڈیشل کونسل کی سفارش پر بھی صدر اپنے ذہن کو اپلائی کرے گا۔ بیرسٹر صلاح الدین نے پھر کہا کہ سیاسی حکومت کی ایڈوائس پر صدر کو ذہن اپلائی کرنا ہوگا، اور جوڈیشل کونسل کے جج برطرفی کی سفارش کرنے پر صدر کو اس پر عمل کرنا ہوگا۔








