خیبر پختونخوا: دہشت گردوں اور منشیات سمگلرز کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
پشاور سے تازہ ترین خبر
خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں دہشت گردی اور منشیات کی روک تھام کے لیے گھیرا مزید تنگ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: نیب کا کرپشن و قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن، اڑھائی برس میں 8397 ارب روپے ریکور
صوبائی ایکشن پلان کی مضبوطی
نجی ٹی وی دنیا نیوز نے باوثوق ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ صوبائی ایکشن پلان کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ حکومت کی رٹ قائم ہو اور امن کا قیام ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: غیر ملکی کرکٹر جو ہنی مون چھوڑ کر آئی پی ایل کھیلنے پہنچ گیا
قانون کی گرفت میں آنے والے اہلکار
دستاویزات کے مطابق دہشت گردوں اور منشیات سمگلرز کی معاونت کرنے والے سرکاری اہلکار بھی اب قانون کی گرفت میں آئیں گے۔ ایسے اہلکاروں کی شناخت پہلے ہی کی جا چکی ہے اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے محکمہ داخلہ، پولیس، ایکسائز اور دیگر متعلقہ اداروں کو ٹاسک سونپ دیئے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل کی رنگارنگ ڈوڈل کے ساتھ نئے سال کی مبارکباد
ایکشن پلان کے اہم شعبے
دستاویز میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ اس ایکشن پلان کے تحت پانچ اہم شعبوں کو مزید مؤثر بنایا جائے گا جن میں دہشت گردی سے نمٹنے، سوشل و پولیٹیکل انگیجمنٹ، اور لیگل و جسٹس سیکٹر میں اصلاحات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی سپریم کورٹ نے چائلڈ میرج ایکٹ کو تمام مذاہب پر لاگو کرنے کی حکومتی درخواست مسترد کردی
دہشت گرد گروپس کی نشاندہی
امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے دہشت گرد گروپس اور ان کے معاونین کی واضح نشاندہی کی جائے گی اور ان کا باقاعدہ پروفائل تیار کیا جائے گا۔ اسی طرح مدارس کی پروفائلنگ کا عمل بھی جلد مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
متوقع کارروائیاں
ذرائع کے مطابق متعلقہ محکموں کو احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں اور جلد بڑے پیمانے پر کارروائیاں متوقع ہیں۔








