خیبر پختونخوا: دہشت گردوں اور منشیات سمگلرز کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
پشاور سے تازہ ترین خبر
خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں دہشت گردی اور منشیات کی روک تھام کے لیے گھیرا مزید تنگ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب سنٹر آف ایکسیلینس آن کاؤنٹرنگ وائلینٹ ایکسٹریمزم کے بورڈ آف گورنرز کا پہلا اجلاس، 3 سالہ پلان کا روڈ میپ پیش
صوبائی ایکشن پلان کی مضبوطی
نجی ٹی وی دنیا نیوز نے باوثوق ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ صوبائی ایکشن پلان کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ حکومت کی رٹ قائم ہو اور امن کا قیام ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: انگریز کے خلاف آزادی کی جنگ لڑنے والے رہنماؤں کی غالب اکثریت وکلاء کی تھی، یہ وکلاء ہی تھے جنہوں نے برصغیر کے عوام کو غلامی سے آزاد کروایا۔
قانون کی گرفت میں آنے والے اہلکار
دستاویزات کے مطابق دہشت گردوں اور منشیات سمگلرز کی معاونت کرنے والے سرکاری اہلکار بھی اب قانون کی گرفت میں آئیں گے۔ ایسے اہلکاروں کی شناخت پہلے ہی کی جا چکی ہے اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے محکمہ داخلہ، پولیس، ایکسائز اور دیگر متعلقہ اداروں کو ٹاسک سونپ دیئے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: غیر ذمہ دار بھارتی حکمرانوں نے اپنی افواج پر وہ بوجھ ڈالا جو وہ اٹھانے کے قابل نہیں تھے: سابق پاکستانی جنرل
ایکشن پلان کے اہم شعبے
دستاویز میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ اس ایکشن پلان کے تحت پانچ اہم شعبوں کو مزید مؤثر بنایا جائے گا جن میں دہشت گردی سے نمٹنے، سوشل و پولیٹیکل انگیجمنٹ، اور لیگل و جسٹس سیکٹر میں اصلاحات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گنڈا پور کی گاڑیاں سیالکوٹ سے گزریں، توقع تھی کہ سانحہ سوات کے متاثرہ خاندانوں سے معافی نہیں، تعزیت ہی کرلیں گے: عظمیٰ بخاری
دہشت گرد گروپس کی نشاندہی
امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے دہشت گرد گروپس اور ان کے معاونین کی واضح نشاندہی کی جائے گی اور ان کا باقاعدہ پروفائل تیار کیا جائے گا۔ اسی طرح مدارس کی پروفائلنگ کا عمل بھی جلد مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
متوقع کارروائیاں
ذرائع کے مطابق متعلقہ محکموں کو احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں اور جلد بڑے پیمانے پر کارروائیاں متوقع ہیں۔








