خیبر پختونخوا: دہشت گردوں اور منشیات سمگلرز کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
پشاور سے تازہ ترین خبر
خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں دہشت گردی اور منشیات کی روک تھام کے لیے گھیرا مزید تنگ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کا قصور کے سیلابی علاقوں کا دورہ، متاثرین سے ملاقاتیں
صوبائی ایکشن پلان کی مضبوطی
نجی ٹی وی دنیا نیوز نے باوثوق ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ صوبائی ایکشن پلان کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ حکومت کی رٹ قائم ہو اور امن کا قیام ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: کینال منصوبہ اگر ہمارے ہاتھ سے نکل گیا تو پھر احتجاج کیلئے نکلیں گے: وزیراعلیٰ سندھ
قانون کی گرفت میں آنے والے اہلکار
دستاویزات کے مطابق دہشت گردوں اور منشیات سمگلرز کی معاونت کرنے والے سرکاری اہلکار بھی اب قانون کی گرفت میں آئیں گے۔ ایسے اہلکاروں کی شناخت پہلے ہی کی جا چکی ہے اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے محکمہ داخلہ، پولیس، ایکسائز اور دیگر متعلقہ اداروں کو ٹاسک سونپ دیئے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سوشل سنٹر شارجہ میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں راشن کی تقسیم
ایکشن پلان کے اہم شعبے
دستاویز میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ اس ایکشن پلان کے تحت پانچ اہم شعبوں کو مزید مؤثر بنایا جائے گا جن میں دہشت گردی سے نمٹنے، سوشل و پولیٹیکل انگیجمنٹ، اور لیگل و جسٹس سیکٹر میں اصلاحات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کچھ حقائق جلد سامنے آئیں گے ۔۔۔‘‘ حامد میر نے ٹرمپ کی کھل کر پاکستان کی تعریف کرنے پر اہم بیان جاری کر دیا
دہشت گرد گروپس کی نشاندہی
امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے دہشت گرد گروپس اور ان کے معاونین کی واضح نشاندہی کی جائے گی اور ان کا باقاعدہ پروفائل تیار کیا جائے گا۔ اسی طرح مدارس کی پروفائلنگ کا عمل بھی جلد مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
متوقع کارروائیاں
ذرائع کے مطابق متعلقہ محکموں کو احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں اور جلد بڑے پیمانے پر کارروائیاں متوقع ہیں۔








