اسرائیل، ایران تنازعے پر روس کا رد عمل کیسا ہوگا؟ کیا روس سے امیدیں لگائی جاسکتی ہیں؟
روس کا نازک سفارتی توازن
ماسکو (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں، روس ایک نازک سفارتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کا قریبی اتحادی ہونے کے باوجود، روس کے اسرائیل کے ساتھ بھی اہم تعلقات موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی کا حارث رؤف کا جرمانہ اپنی ذاتی جیب سے ادا کرنے کا فیصلہ
اسرائیلی حملوں پر روس کا ردعمل
گزشتہ ہفتے، اسرائیل نے ایران کے جوہری اور عسکری اہداف پر "احتیاطی حملوں" کا دعویٰ کیا۔ اس پر روس کی وزارتِ خارجہ نے ان حملوں کو اقوامِ متحدہ کے ایک خودمختار رکن ملک پر "بلا جواز فوجی کارروائی" قرار دیا۔ کریملن، جو برسوں سے ایران کا اتحادی ہے، موجودہ بحران کے سفارتی حل پر زور دے رہا ہے۔ ایران میں اسرائیلی حملوں کی وجہ سے 220 سے زائد افراد ہلاک اور 1200 سے زیادہ زخمی ہوئے، جبکہ ایرانی جوابی حملوں میں اسرائیل میں 24 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وفاق کے زیرانتظام تعلیمی اداروں میں ہفتے کی تعطیل ختم، نوٹیفکیشن جاری
روس اور ایران کی مشترکہ کارروائیاں
الجزیرہ کے مطابق، روس اور ایران نے شام میں سابق صدر بشار الاسد کی حمایت میں مشترکہ فوجی کارروائیاں کی تھیں، لیکن بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔ ایران نے روس کو یوکرین میں استعمال کے لیے شہید ڈرون فراہم کیے، اور اطلاعات ہیں کہ روس نے ایران سے سینکڑوں فَتح-360 میزائل بھی حاصل کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: معروف نیپالی اداکار سنیل تھاپا انتقال کرگئے
تجزیہ کاروں کی رائے
روسی میڈیا پر حکومت کے حامی مبصرین واضح طور پر ایران کی حمایت کی بات کر رہے ہیں۔ مشہور روسی تجزیہ کار سرگئی مارڈان نے کہا کہ چونکہ اسرائیل امریکہ کا قریبی اتحادی ہے، ازین لحاظ روس کے لیے اسرائیل کو کمزور دیکھنا ایک فطری بات ہے۔ انہوں نے مزید کہا، "اگر آپ کا کوئی دشمن ہے اور اس دشمن کے شراکت دار اور اتحادی ہیں، تو ان کے شراکت دار اور اتحادی خود بخود آپ کے دشمن ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا غزہ میں بڑے پیمانے پر زمینی آپریشن، ہسپتالوں پر براہ راست حملے، طبی سہولیات ختم، 135 فلسطینی شہید
ایران سے ہتھیاروں کی فراہمی
ماہرِ مشرقِ وسطیٰ رُسلان سلیمانوف کے مطابق، ایران اور روس کے تعلقات کو ضرورت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران روس سے زیادہ جدید ہتھیاروں، خلائی و نیوکلیئر ٹیکنالوجی کی امید رکھتا تھا، جو روس نے فراہم نہیں کیں کیونکہ کریملن اسرائیل کے ساتھ توازن قائم رکھنا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: During Flight, Female Passenger Did Such an Act That Fellow Passengers Attacked Her
روسی اپوزیشن اور اسرائیل کی حمایت
روسی اپوزیشن اور مغرب نواز حلقے اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ حکومت ایک محتاط حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے تاکہ وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کی حکومت سے تعلقات برقرار رکھ سکے۔ روس اور اسرائیل کے تعلقات ہمیشہ پیچیدہ رہے ہیں، اور سوویت یونین کی تاریخ میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کے سیف اللہ ابڑو اور جے یو آئی کے سینیٹر احمد خان نے 27 ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دے دیا
شام میں اسرائیل اور روس کے تعلقات
شام کے معاملے پر، روس اور اسرائیل میں ایک غیر رسمی مفاہمت تھی، جس کے تحت روس اسرائیلی حملوں کو نظرانداز کرتا رہا، اور اسرائیل نے یوکرین میں روس کے خلاف کوئی سخت موقف نہیں اپنایا۔ لیکن بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ توازن ختم ہو چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ موجودہ بحران روس کے لیے سفارتی اثر و رسوخ کو ظاہر کرنے کا موقع ہو سکتا ہے۔
روس کا مشرقِ وسطیٰ میں اثر و رسوخ
تاہم سلیمانوف کے مطابق، شام میں تبدیلی کے بعد، روس کا مشرقِ وسطیٰ میں اثر و رسوخ کم ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران کا یوکرین میں جنگ پر براہِ راست اثر نہیں ہوگا، لیکن مغرب کی توجہ یوکرین سے ہٹ کر مشرق وسطیٰ پر جا سکتی ہے، جو کریملن کے لیے فائدہ مند ہو گا۔








