چینی صدر کی امریکہ کو تنبیہ اور نئی عالمی صف بندی

عالمی طاقتوں کے درمیان تناؤ

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں الفاظ، محض الفاظ نہیں رہے۔۔۔ خاص طور پر اگر وہ الفاظ کسی عالمی طاقت کے سربراہ کے ہوں تو وہ پوری دنیا کے سیاسی، اقتصادی اور عسکری نقشے پر لرزہ طاری کر دیتے ہیں۔ چین کے صدر شی جن پنگ کا حالیہ بیان کہ "اگر امریکا دنیا کا احترام نہیں کرے گا تو سبق سیکھے گا، دنیا امریکا کے بغیر بھی آگے بڑھ سکتی ہے" صرف ایک تنبیہ نہیں بلکہ ایک پیشگی اعلان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دبئی میں 41 بھکاری گرفتار، ان سے کتنے پیسے برآمد ہوئے؟ تہلکہ خیز انکشاف

نئی عالمی صف بندی

یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ ایک نئی آگ کی لپیٹ میں ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تناو اب ایک محدود تصادم کی حد پار کر چکا ہے۔ ایران کے اندر اسرائیلی تابڑ توڑ حملے اور پھر ایرانی میزائلوں کا براہِ راست منہ توڑ جواب، عالمی سطح پر ہلچل کا باعث بن چکا ہے اور تیسری عالمی جنگ کا بگل بھی بج چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک فضائیہ کی بمباری، افغان سپریم لیڈر ہیبت اللہ اور کالعدم ٹی ٹی پی کی قیادت کی ہلاکت کی غیر مصدقہ اطلاعات

امریکہ کی غیر متوازن پالیسی

اگرچہ مغربی میڈیا اس جنگ کو صرف "دفاعی ردعمل" کے طور پر پیش کر رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کشیدگی صرف ایران اور اسرائیل کے درمیان محدود نہیں رہی۔ اس کے پیچھے عالمی قوتوں کے خفیہ عزائم، بالخصوص امریکہ کی غیر متوازن پالیسی، سب پر عیاں ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، فتنہ الخواج کے 5 دہشت گرد ہلاک

چین کا کردار

چین مشرق وسطیٰ میں طویل عرصے سے "غیر جانبدار ثالث" کا کردار ادا کرتا رہا ہے مگر اب وہ تماشائی بننے کو تیار نہیں۔ اس تمام صورتحال اور اس پس منظر میں چینی صدر اور ترجمان وزارت خارجہ کے یہ بیانات، ایران کے موقف کی بالواسطہ تائید اور اسرائیل کے خلاف ایک بالواسطہ تنبیہ بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سابق پاکستانی کوچ باب وولمر نے مرنے سے پہلے قومی ٹیم کے کھلاڑیوں سے آخری بات کیا کی تھی؟

عالمی معیشت اور معیشت کی تبدیلی

دوسری طرف، عالمی معیشت بدترین کساد بازاری کی زد میں ہے۔ امریکہ، یورپ اور جاپان کی معیشتیں بظاہر مستحکم نظر آتی ہیں مگر اندر سے "کھوکھلی" ہو چکی ہیں۔۔۔ افراط زر، بے روزگاری، بینکنگ بحران اور سرمایہ کاروں کا عدم اعتماد، یہ وہ مسائل ہیں جو "مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے تابوت میں آخری کیل" ثابت ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایف8 اسلام آباد صرف 45 دن میں بننے والا روڈ 45 دن بھی نہ چل سکا، پی ٹی آئی

پاکستان کا موقع

پاکستان کے لیے یہ موقع نادر ہے مگر شرط یہ ہے کہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا جائے۔ پاکستان گزشتہ دہائیوں میں بارہا امریکی دباو کا شکار رہا ہے۔ اب جب عالمی طاقت کا توازن بدل رہا ہے تو پاکستان کو بھی اپنی ترجیحات بدلنی ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی اور چینی صدر کی ملاقات: ٹرمپ کا چین پر ٹیرف 10 فیصد کم کرنے کا اعلان

پاکستان اور بھارت کا تناؤ

پاک بھارت تناو اس وقت ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ بھارت کی مودی حکومت مسلسل پاکستان کے خلاف عسکری، سفارتی اور نفسیاتی محاذ پر حملہ آور ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چھتوں پر سنائپرز اور ڈرونز کی نگرانی: امریکہ میں ووٹوں کی گنتی کا مرکز جس پر دنیا بھر کی توجہ مرکوز ہے

امریکہ کے اندرونی بحران

امریکہ کے اندرونی سیاسی بحران کی حالت بھی بہتر نہیں ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور فیصلے نہ صرف امریکہ کو اندر سے تقسیم کر رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ مزید متاثر ہو رہی ہے۔

ختم ہونا والا دور

وقت آ گیا ہے کہ دنیا اپنی آنکھیں کھولے اور یہ تسلیم کرے کہ اب ایک "عالمی پولیس مین" کے سائے میں جینے کا دور ختم ہو چکا ہے۔ عالمی برادری کو ایسے لیڈروں کی ضرورت ہے جو نہ صرف اپنی قوم بلکہ دنیا بھر کے انسانوں کے لیے مساوی مواقع اور عزت کا تصور رکھتے ہوں۔

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس '[email protected]' یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

Categories: بلاگ

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...