بھارت سے دہشتگردی پر بات ہوگی، جلد دنیا دیکھے گی کہ کئی اہم چیزیں رونما ہونگی: فیلڈ مارشل عاصم منیر
فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا خطاب
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ بھارت سے دہشتگردی پر بات ہوگی اور جلد دنیا دیکھے گی کہ کئی اہم چیزیں رونما ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: فلپائن میں ایچ آئی وی کے کیسز 500 فیصد بڑھ گئے، طبی ہنگامی حالت نافذ
پنجی ٹی وی چینل جیو نیوز کی رپورٹ
فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں پاکستانی کمیونٹی کے بڑے اجتماع سے خطاب کیا، جس میں انہوں نے آپریشن بنیان مرصوص کے حوالے سے کئی نئے پہلووں سے لوگوں کو روشناس کیا۔ اس کے علاوہ پاکستان میں دہشتگردی، اقتصادی صورتحال، امریکا سے تعلقات کی نوعیت اور ایران اسرائیل جنگ سمیت کئی اہم امور پر تفصیلی بات چیت کی۔
یہ بھی پڑھیں: ترک فضائیہ کے کمانڈر جنرل ضیا ءجمیل قادی اوغلو کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا سے ملاقات
بھارت کی کاروائیوں پر سوالات
جنرل عاصم منیر نے بھارت پر واضح کیا کہ اگر پہلگام حملے کے متعلق چار افراد کا الزام پاکستان پر لگایا جا رہا ہے تو مقبوضہ وادی میں تعینات لاکھوں بھارتی فوجی کیا کر رہے تھے؟ ہر 10 کلومیٹر پر موجود بھارتی چیک پوسٹ کے اہلکار کہاں تھے جب وہ چار افراد 250 کلومیٹر چل کر پہلگام میں گئے اور قتل عام کر کے واپس چلے گئے؟
یہ بھی پڑھیں: نشے میں ہونے کے باعث ائیر انڈیا کی پرواز کے پائلٹ کو کینیڈا میں آف لوڈ کردیا گیا
پاکستان کے عزائم اور بھارتی جارحیت
انہوں نے بتایا کہ پہلے حملے کے بعد بھارت نے ہاٹ لائن پر رابطہ کیا اور کہا کہ اب بات چیت کے لیے تیار ہیں، جس پر انہیں یہ باور کرایا گیا کہ پاکستان جو کرنا ہے کرے گا، پھر فیصلہ کریں گے کہ بات کرنی ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یونیسکو کا پاکستان میں میڈیا اینڈ انفارمیشن لٹریسی کی حکمت عملی پر مشاورت کا آغاز
وزیراعظم کا ردعمل
فیلڈ مارشل نے حکومت اور افواج کے درمیان آپریشن کے روابط کا ذکر کیا اور وزیراعظم شہباز شریف کے جواب کا ذکر کیا کہ اگر لڑائی بڑی جنگ میں تبدیل ہونے کے امکانات ہیں تو وزیراعظم نے کہا کہ "آپ بسم اللہ کریں، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: ایک روز میں چمن بارڈر کے ذریعے 10 ہزار 700 افغان شہری افغانستان واپس بھیج دیے گئے
بھارت کے خلاف آپریشن کا تاریخی پسِ منظر
جنرل نے بھارت کے خلاف کارروائی کو آپریشن بنیان مرصوص کا نام دیتے ہوئے کہا کہ یہ نام انہوں نے اس وقت رکھا جب فضائیہ کے ائیر مارشل نے انہیں یاد دلایا کہ پاکستان کے دفاع میں فضائیہ کی شاندار کارکردگی کیا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں فیکٹری میں آگ لگ گئی
چین کی مدد اور بھارتی نظام کی کمزوری
فیلڈ مارشل نے چین کی مدد کا بھی ذکر کیا اور بھارتی نظام کے ہیکنگ کی تفصیلات بتائیں، جن میں بجلی نظام کا کریش ہونا، ڈیمز کے سپل ویز کھولنا اور دیگر کارروائیاں شامل تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں امن و امان سمیت اور بھی بہت سے مسائل ہیں، سلیم مانڈوی والا
حکومت اور عوام کی حمایت
جنرل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستانی افواج کی اصل طاقت عوام ہیں، جنہوں نے فوج کا بھرپور ساتھ دیا۔ جنگ کے دوران مختلف طبقات کا ردعمل اس قدر منظم تھا کہ جیسے یہ اسکرپٹ کیا گیا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان طورخم بارڈر چھوڑ کر فرار، باجوڑ سیکٹر میں فتنہ الخوارج کی بارڈر کراس کرنے کی کوشش، پاک فوج نے دبوچ لیا
کشمیر کا مسئلہ اور اقتصادی صورتحال
امریکی صدر کا کشمیر کے حوالے سے کردار ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کشمیر پر کئی بار بات کی ہے اور بھارت سے دہشتگردی پر بات چیت کے وقت 1971 کا بھی ذکر ہو گا۔
اقتصادی صورتحال پر بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ امریکہ 400 سے 500 ارب ڈالر کے معدنی دھاتوں کے معاہدے کی خواہش رکھتا ہے، جبکہ پاکستان نے کہا ہے کہ اس کے پاس ایک کھرب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات میں پیکا ایکٹ کے تحت 372 غیر قانونی مقدمات درج ہونے کا انکشاف
مستقبل کے لئے امیدیں
فیلڈ مارشل نے کہا کہ اگلے پانچ سال میں پاکستان کی ترقی تیزی سے ہوگی اور 2047 میں اللہ نے چاہا تو یہ ملک جی 10 کا حصہ بن جائے گا۔
اختتامی کلمات
تقریب کے آغاز میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے بھارت کے چالوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ پاکستان نے کس طرح پیغام دیا کہ وہ خطے میں امن و سلامتی کا خواہاں ہے۔ تقریب میں کئی اہم شخصیات بھی موجود تھیں جنہوں نے پاکستانی فوج اور حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔








