ایران کا تل ابیب پر ’ہائپر سونک‘ الفتح میزائل داغے جانے کا دعویٰ
ایران نے اسرائیل پر میزائل داغنے کا دعویٰ کیا
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایرانی پاسداران انقلاب نے اسرائیل پر رات گئے الفتح ہائپر سونک میزائل داغنے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن، مری میں الرٹ جاری
خبر رساں ایجنسیوں کی رپورٹ
بی بی سی اردو کے مطابق ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی 'مہر' کے حوالے سے یہ خبر آئی ہے کہ ایران نے اسرائیل کی جانب 'الفتح ون' میزائل داغے ہیں۔
ایران کے سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی نے بھی اسرائیل پر الفتح میزائل داغنے کی اطلاع دی ہے۔ دونوں ایرانی خبر رساں اداروں نے یہ دعویٰ پاسداران انقلاب سے منسوب کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا بائیکاٹ اپنے ممبران پر عدم اعتماد ہے: رانا ثناء اللہ
پاسداران انقلاب کا بیان
پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، پاسداران انقلاب نے آپریشن کے تازہ ترین مرحلے کو 'ٹرننگ پوائنٹ' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ الفتح میزائل کا داغنا اسرائیل کے دفاعی نظام کے لیے 'اختتام کا آغاز' ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور کرغزستان میں بشکیک اور اسلام آباد کو جڑواں شہر قرار دینے کا معاہدہ
ماضی کے تجربات
یاد رہے کہ اکتوبر 2024 میں اسرائیل پر ایران کے حملے کے دوران ایران نے اسرائیل کی طرف درجنوں الفتح میزائل داغے تھے۔ تاہم موجودہ جنگ میں یہ پہلا موقع ہے جب اس میزائل کا استعمال کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہونڈا کی مقبول سٹی کار کی نئی قیمت کا اعلان
الفتح میزائل کی تاریخ
الفتح میزائل کو پہلی بار 2023 میں منظر عام پر لایا گیا تھا اور اس کا نام ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے رکھا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی بنچز کا قیام: سندھ ہائیکورٹ کی آئینی درخواستوں پر سماعت سے معذرت
میزائل کی صلاحیتوں پر سوالات
اگرچہ پاسداران انقلاب کا دعویٰ ہے کہ الفتح ہائپر سونک میزائل ہے، لیکن دفاعی ماہرین اس کی حقیقی ہائپر سونک صلاحیتوں کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور افغانستان کا تجارت، رابطہ کاری اور سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق
ایرانی پاسداران انقلاب کی وارننگ
بی بی سی فارسی کے مطابق، اس میزائل کے داغے جانے سے قبل ایرانی پاسداران انقلاب نے تل ابیب کے رہائشیوں کے لیے انخلا کا الرٹ جاری کیا تھا، جس میں اسرائیلی شہر پر بڑے حملے کی وارننگ دی گئی تھی۔
اسرائیلی فوج کا ردعمل
دوسری جانب، اسرائیلی فوج نے گزشتہ چند گھنٹوں میں میزائل حملے کی وارننگ جاری کی اور ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے میزائلوں کو روکنے کی کوشش کی، جس کے بعد انھوں نے شہریوں کو مطلع کیا کہ وہ محفوظ پناہ گاہوں سے نکل سکتے ہیں۔








