سرکاری افسران اپنے اثاثے ظاہر کریں گے، سول سروس ایکٹ میں ترمیم کا بل سینیٹ میں متفقہ طور پر منظور
سینیٹ میں سول سروس ایکٹ کی ترامیم کی منظوری
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ میں سول سروس ایکٹ میں ترمیم کا بل متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کبھی کبھی سپریم کورٹ کے ایک جملہ لکھنے سے 18،18سال کیسز چلتے رہتے ہیں،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے کیس میں ریمارکس
اجلاس کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس منعقد ہوا۔ اب سرکاری افسران اپنے اثاثے ظاہر کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: انسانی ہمدردی کی روشن مثال، ریسکیو ٹیم نے سپیشل پرسن کو چار پائی پر ڈال کر میلوں فاصلہ پیدل طے کیا۔
وزیر قانون کا بیان
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سیاستدان اپنے اثاثے ظاہر کرتے ہیں، اور ایمنسٹی انٹرنیشنل و اقوام متحدہ کے اداروں نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں سرکاری افسران کو اپنے اثاثے ظاہر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں کرپشن سے متعلق چیزیں شفاف ہونی چاہئیں۔ محکمہ افسران کے گوشوارے ویب سائٹ پر آویزاں کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی پی ایل کی تاریخ میں توسیع خوش آئند، لیکن مسئلہ جوں کا توں ہے، کمرشل امپورٹرز، حکومت قوانین پر نظرثانی کرے، سلیم ولی محمد
بل میں شامل اہم نکات
بل میں کہا گیا ہے کہ گریڈ 17 اور بالاتر کے افسران اپنے، شریک حیات، اور زیر کفالت بچوں کے اثاثے ڈکلیئر کریں گے۔ گریڈ 17 سے بالا افسران اپنے غیر ملکی اور ملکی اثاثے اور واجبات بھی ڈکلیئر کریں گے۔ تفصیلات فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ساتھ ڈیجیٹل فائل کی جائیں گی، جو عوامی ہوں گی۔ تاہم انکشافات عوامی مفادات اور شخص کی پرائیویسی اور سکیورٹی کے درمیان توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔ یہ ترمیم معلومات تک رسائی کے ایکٹ کے تحت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب پولیس کے 8 سرچ اینڈ سویپ آپریشنز، 498 افراد سے پوچھ گچھ، 4 مشتبہ افراد گرفتار
بل کے اغراض و مقاصد
یہ بل رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت اثاثہ جات کا اعلان یقینی بنانے کا مقصد رکھتا ہے، خاص طور پر گریڈ 17 تا 22 اعلیٰ عہدیداران کے ملکی اور غیر ملکی اثاثے عوام کے لیے قابل رسائی ہوں گے۔ اثاثوں کی تفصیلات ڈیجیٹل فائل کی جائیں گی۔
ذاتی معلومات کا تحفظ
بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ذاتی معلومات، شناختی کارڈ نمبر، پتہ، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات کا تحفظ کیا جائے گا۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو خطرے پر مبنی تصدیق کے لیے ضروری وسائل اور فریم ورک فراہم کیے جائیں گے۔








