کشمیر، یورپی یونین اور بلاول کی سفارتکاری
بلاول بھٹو زرداری کا دورہ برسلز
تحریر: وقار ملک
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نو رکنی اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد کے ہمراہ برسلز پہنچے، جہاں یورپی یونین کے نمائندوں نے ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ بلاول بھٹو نے برسلز پریس کلب میں ایک ہاؤس فل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارت و پاکستان کے درمیان کشمیر، دہشتگردی اور آبی مسائل کے حل کے لیے فوری و پائیدار مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں شعبان المعظم کا چاند نظر نہیں آیا، یکم شعبان بدھ کو ہوگی
کشمیر کے تنازعے پر تشویش
انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ بندی کی موجودہ خاموشی گمراہ کن ہے، اور اگر کسی بھی وقت کشیدگی دوبارہ بڑھی، تو یہ ایک ایسی سطح سے شروع ہوگی جہاں سے پچھلا تصادم ختم ہوا تھا۔ بلاول بھٹو نے بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کو پاکستان کے لیے “وجودی خطرہ” قرار دیا، اور واضح کیا کہ پانی کی بندش کو جنگ کا اقدام سمجھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت پہلے تفتیش اور پھر الزام تراشی کرے: چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی
بھارتی مذاکرات سے انکار
ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے ہر سطح پر مذاکرات سے انکار کیا—چاہے وہ اقوامِ متحدہ ہو، امریکی ثالثی ہو، یا دو طرفہ مکالمہ۔ انہوں نے یورپی یونین اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ جنوبی ایشیا میں ممکنہ جوہری تصادم کو روکنے کے لیے فعال سفارتکاری اور ثالثی کا کردار ادا کریں۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی 9مئی کے 4مقدمات میں ضمانت منظور
کشمیریوں کی آواز بلند کرنا
جیسے جیسے یورپی یونین بھارت کے ساتھ اپنے معاشی و تزویراتی روابط کو مزید مضبوط بنا رہی ہے، برسلز میں مقیم کشمیریوں اور انسانی حقوق کے کارکنان ایک بار پھر کشمیر سینٹر ای یو جیسے مؤثر ادارے کے دوبارہ قیام کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں تاکہ یورپ میں مسئلہ کشمیر کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔ جیسا کہ پاکستان کشمیریوں کا ایک بڑا وکیل اور موثر لابنگ کر سکتا ہے اور جنرل عاصم منیر فیلڈ مارشل بننے کے بعد ایک بہادر سپہ سالار بن کر ابھرے اور کشمیریوں کی توقعات بڑھیں ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان نے اپنے وفود باہر کی دنیا میں بھیجے تاکہ مسلہ کشمیر سمیت دیگر اہم امور پر گفتگو ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں تیل اور گیس کے 14 نئے ذخائر دریافت، اعلان ہوگیا
پالیسی نشست کا انعقاد
اسی تناظر میں برسلز میں منعقدہ ایک پالیسی نشست کے دوران جرمن سیاست دان اور سابق یورپی مشیر فرینک شوالبا ہوتھ نے کشمیر سینٹر کی تاریخی خدمات پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ادارہ ماضی میں یورپی سطح پر کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف مؤثر لابنگ کرتا رہا ہے اور متعدد فیکٹ فائنڈنگ مشنز کا حصہ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک اور ٹک ٹاکر مقدس عباس قتل
یورپی یونین کی بھارت نواز پالیسی پر تنقید
انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ یورپی یونین کی بھارت نواز پالیسی، خاص طور پر ٹرمپ کے دورِ صدارت کے بعد، ایک نئے جغرافیائی سیاسی توازن کو جنم دے رہی ہے، جہاں انسانی حقوق کو ثانوی حیثیت حاصل ہوتی جا رہی ہے۔ "کیا کشمیر بھی مغربی صحارا جیسی خاموشی کا شکار ہو جائے گا؟" انہوں نے سوال اٹھایا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بسنت پھیکی پڑنے کا خدشہ، پتنگ بازی کے سامان کی قلت برقرار
کشمیر سینٹر ای یو کی اہمیت
یاد رہے کہ کشمیر سینٹر ای یو، جس کی قیادت برسٹر عبدالمجید ترمبو نے 2003 سے 2014 تک کی، نے ایک دہائی تک یورپی اداروں میں کشمیر کے حق خودارادیت کے لیے مختلف سیمینارز، رپورٹوں، اور مہمات کے ذریعے مضبوط مؤقف اختیار کیا۔ تاہم گزشتہ برسوں میں اس کی غیر موجودگی یورپی سطح پر ایک خاموشی کو جنم دے چکی ہے، جس سے بھارت کو منفی پروپیگنڈہ کرنے کا موقع ملا جبکہ پاکستان کی طرف سے ای یو پارلیمنٹ میں کسی بھی این جی او کی طرف سے حوصلہ افزاء کوششیں نہ کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: تعلیم اور ٹیکنالوجی میں ترقی کیے بغیر امت اپنا کھویا عظیم ماضی واپس حاصل نہیں کر سکتی: حافظ نعیم الرحمان
یورپی یونین میں انسانی حقوق کا دفاع
پاکستان کے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، جو برسلز کے اس اجلاس میں مہمان خصوصی تھے، کو ممبران پارلیمنٹ اور یورپی صحافیوں نے برسٹر مجید ترمبو کی قابلیت سے آگاہ کیا اور سوالات بھی کیے۔ اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین اور دیگر انٹرنیشنل اداروں میں سخت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ای یو کا کردار صرف معاشی شراکت داری تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے انسانی حقوق اور علاقائی امن کے لیے بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: 1 مئی کے کیسز: یاسمین راشد کا سزا معطلی کے لئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع
مذاکرات کی اہمیت
انہوں نے کہا: "ہمیں یورپی یونین اور بھارت کے تعلقات پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن ہماری خواہش ہے کہ آپ بھارت کو یہ باور کرائیں کہ موجودہ رویہ نہ صرف کشمیریوں بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: گندم امپورٹ کرنی پڑ رہی ہے، ریٹ 4200 روپے فی من مقرر کیا جائے: شرجیل میمن کا وفاقی حکومت سے مطالبہ
پرامن ترقی کی ضرورت
بلاول نے زور دیا کہ معاشی ترقی اور علاقائی روابط صرف امن کے ماحول میں ہی فروغ پا سکتے ہیں، اور اگر کشمیر جیسے حساس تنازعے کو نظر انداز کیا گیا تو یورپ کے لیے بھی علاقائی تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع محدود ہو جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو چاہیے اس کا نام آپریشن سہاگ رات رکھ دے’’ پاکستانی صحافی کا ایسا ٹویٹ کہ جنگ کے ماحول میں بھی آپکو ہنسی آجائے
انسانی حقوق کے دفاع میں اتحاد
یورپی انسانی حقوق کے حلقے بھی اس خاموشی پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک سابق یورپی سفارتکار کے مطابق، "کشمیر سینٹر ای یو جیسے پلیٹ فارم مظلوم کشمیریوں کی آواز تھے۔ آج جب بھارت عالمی سطح پر اپنی شبیہ بہتر بنانے میں لگا ہوا ہے، تو ان اداروں کی غیر فعالیت ایک تشویشناک خلا پیدا کر رہی ہے۔"
مستقبل کے مواقع
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر برسلز میں ایک نیا یا ازسرنو متحرک ادارہ قائم ہو جائے، تو وہ یورپی پالیسی سازوں اور عوامی رائے عامہ کو کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے—اور یورپی یونین کو بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو زیادہ متوازن انداز میں استوار کرنے کا موقع دے سکتا ہے۔ بعدازاں سنیٹر شیری رحمان نے برسٹر مجید ترمبو کی خدمات کو سراہا اور ان کی خدمات حاصل کرنے پر زور دیا ہے۔








