جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ جارحیت کو غیرمشروط طور پر روکنا ہے: ایرانی صدر
ایران کی مذاکرات کی شرط
تہران(ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران نے بین الاقوامی برادری پر واضح کر دیا ہے کہ اسرائیل کے حملے رکنے تک کسی سے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ جنیوا میں یورپ سے بات چیت صرف جوہری اور علاقائی امور کے گرد رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی پارلیمانی لیڈر زرتاج گل کا جمشید دستی سے متعلق فیصلے پر ردِعمل آ گیا
صدر کا بیان
نجی ٹی وی دنیا نیوزکے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ہم نے ہمیشہ امن و امان کی کوشش کی ہے لیکن موجودہ حالات میں مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ دشمن کی جارحیت کو ’غیر مشروط طور پر روکنا‘ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سلسلہ دنوں چلتا رہا، تانے بانے بنتا رہا، خوبصورتی کی وجہ سے ڈرتا تھا، کوئی ہمدم نہ تھا، اینٹ واپس لگا دیں، کل ایک محبت نامہ وصول کیجئے گا۔
امن کے لیے ضروری اقدامات
ایکس پر انہوں نے لکھا کہ امن کے لیے ضروری ہے کہ صیہونی دہشت گردوں کی مہم جوئی کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی یقینی ضمانت فراہم کی جائے، اگر ایسا نہ کیا گیا تو بصورت دیگر دشمن کے خلاف ہمارا ردعمل زیادہ سخت اور افسوسناک ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: مودی کی پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی عالمی اصولوں کیخلاف ہے: پاکستان
جنیوا میں مذاکرات کی پیشگی تیاریاں
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی یورپی وزرائے خارجہ اور ان کے ایرانی ہم منصب کے درمیان آج طے شدہ مذاکرات سے قبل جنیوا پہنچ گئے ہیں۔ اس سے پہلے انہوں نے مذاکرات کی فوری ضرورت کی طرف اشارہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: گجرات میں وزارت خارجہ کے 2 اہلکاروں کی کرائے کی رہائش گاہ پر مبینہ واردات، چوروں نے 40 لاکھ روپے سے زائد کی رقم لوٹ لی
امریکی دباؤ اور ایرانی موقف
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ یورپی ممالک کے نمائندوں سے ملاقات میں ایران اپنے میزائل پروگرام اور دفاعی صلاحیتوں پر کسی صورت مذاکرات نہیں کرے گا۔ جنیوا میں یورپی فریقین کے ساتھ ہونے والی بات چیت صرف جوہری اور علاقائی امور کے گرد گھومے گی۔
یہ بھی پڑھیں: کتنے ارکان پارلیمنٹ نے اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع نہیں کروائیں ۔۔۔؟ جان کر آپ حیران رہ جائیں
امریکہ کے ساتھ بات چیت کا مسئلہ
عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ اب تک ایران سے سنجیدہ مذاکرات کی خواہش کا اظہار کرتا رہا ہے، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ ایران امریکہ سے بات نہیں کرے گا کیونکہ وہ اسرائیلی حکومت کے جاری جرائم میں شریک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات میں عیدالاضحیٰ 6 جون کو ہونے کا امکان
ایران کی میزائل طاقت اور اقوام متحدہ کا اجلاس
انہوں نے مزید بتایا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک اجلاس آج منعقد ہونے جا رہا ہے، جو روس، چین، پاکستان، الجزائر اور دیگر چند رکن ممالک کی درخواست پر بلایا جا رہا ہے۔
خلاصہ
ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ موجودہ حالات میں جب صہیونی حکومت کی جارحیت جاری ہے، ہم کسی سے بھی مذاکرات کا ارادہ نہیں رکھتے۔








