امریکی رکن کانگریس نے ایران پر حملہ ٹرمپ کیخلاف مواخذےکی بنیاد قرار دے دیا
کانگریس کی رکن کا ٹرمپ کے حملے پر ردعمل
نیویارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی رکن کانگریس نے ایران پر حملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی بنیاد قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے کی کارروائی، انسانی سمگلرزسمیت چارایجنٹ گرفتار
ملکی آئین کی خلاف ورزی
نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق ایکس پر جاری بیان میں امریکی خاتون رکن کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیوکورٹیز نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران پر بمباری کا تباہ کن فیصلہ آئین اور کانگریس کے جنگی اختیارات کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں دوست نے بے وفائی پر خاتون کو آگ لگا کر مار ڈالا
جنگ کا خطرہ
ڈیموکریٹ رکن کانگریس کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے جذبات میں آ کر ایک ایسی جنگ کا خطرہ مول لیا ہے جو ہمیں نسلوں تک الجھاسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں بڑی کمی
مواخذے کی بنیاد
الیگزینڈریا کا کہنا تھا کہ یہ مکمل طور پر اور واضح طور پر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی بنیاد ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیاحوں کے ساتھ دھو کہ دہی اور لوٹ مار دیکھ کر غصہ بہت آیا،فرعون کا ننھا سا تابوت جو 12پاؤنڈ کا تھا یہاں سے صرف 2پاؤنڈ میں مل گیا
صدر ٹرمپ کا بیان
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے ایران کی 3 نیوکلیئر سائٹس پر کامیاب حملہ کیا اور فردو ایٹمی تنصیب مکمل طور پر تباہ کردی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تھائی لینڈ اور کمبوڈیا نے غیر مشروط جنگ بندی پر اتفاق کر لیا
ہدف کی وضاحت
بعد ازاں واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی فردو، نطنز اور اصفہان کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، امریکہ کا مقصد ایران کی جوہری افزودگی کی صلاحیت کو ختم کرنا تھا اور ایران کی تنصیبات ختم کر دی گئی ہیں۔
مستقبل کے اہداف
امریکی صدر نے کہا کہ آج رات کے اہداف سب سے مشکل تھے، بہت سے اہداف رہ گئے، امن نہ ہوا تو درستگی کے ساتھ دیگر اہداف کے پیچھے جائیں گے۔








