اسرائیل، ایران جنگ کے حوالے سے چند اہم فیکٹ چیک، پاکستان نے اپنی فضائی، زمینی یا بحری حدود استعمال کرنے کی اجازت دی نہ دے گا
اسرائیل اور ایران جنگ: اہم حقائق
لاہور (طیبہ بخاری سے) اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے حوالے سے چند اہم حقائق اور فیکٹ چیک رپورٹ کیے گئے ہیں۔ پاکستان کا اصولی موقف بھی سامنے آ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں موسم کیسا رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کردی
پاکستان کا موقف
پاکستان نے امریکہ یا اسرائیل کو ایران کے خلاف کسی بھی حملے کے لیے اپنی فضائی حدود، زمینی یا بحری جگہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی اور نہ ہی دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کو بجلی مہنگی کرنے کی یقین دہانی، بجٹ سبسڈی 830 ارب تک محدود رکھنے کا فیصلہ
امریکی حملے کی مذمت
تفصیلات کے مطابق، پاکستان نے 21/22 جون کی رات ایرانی جوہری تنصیبات پر کیے گئے امریکی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ وزارت خارجہ نے اس حوالے سے واضح بیان بھی جاری کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات ضروری ہے، حالات میں بہتری آسکتی ہے، بیرسٹر گوہر
ایرانی دفاع کی حمایت
پاکستان نے مختلف بین الاقوامی فورمز پر ایران پر اسرائیلی حملوں کی بارہا اور دلیری کے ساتھ مذمت کی ہے، اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایران کی مکمل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تم سے نہیں پوچھا، خاموش رہو۔ وہ گھبرا گئے، حرام کھاتے ہو شرم آنی چاہیے، شاید ہم ”عزت“ نامی لفظ کو زندگی سے نکال چکے یا سمجھوتہ کر چکے ہیں
ملک کی خود مختاری
پاکستان کسی دوسرے کی جنگ، کسی بلاک کی سیاست، اور دوسرے ملک کے فوجی تنازعات میں حصہ نہیں لے گا اور نہ ہی اس کا حصہ بنے گا۔ پاکستان کا پہلے دن سے ایک اصولی موقف ہے کہ ایران کو اپنے دفاع کے تمام حقوق حاصل ہیں، اور پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: 28 مئی کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان
بین الاقوامی روابط کی اہمیت
پاکستان نے ہمیشہ تمام متعلقہ فریقین اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ فعال روابط قائم کیے ہیں اور کرتا رہے گا تاکہ جلد از جلد جارحیت کا خاتمہ ممکن ہو سکے، اور باہمی بات چیت اور ڈائیلاگ کے ذریعے امن کو موقع دیا جا سکے۔ ایسا امن جو پائیدار، باعزت اور باہمی طور پر قابل قبول شرائط پر مبنی ہو۔ اس کا مقصد کشیدگی میں اضافے اور اس کے نتیجے میں خطے میں عدم استحکام جیسے سنگین خطرات سے بچنا ہے۔
بات چیت کا ذریعہ امن
پاکستان کا ماننا ہے کہ ہر تنازعہ کا اختتام بالآخر بات چیت اور روابط کے ذریعے ہی ممکن ہوتا ہے، اور اس کے لیے یہ تمام فریقین کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ تاخیر کی بجائے بروقت کوئی پُرامن حل تلاش کریں۔








