گھڑی گمشدگی کا معاملہ: بلال یامین نے اعجاز شفیع سے ایوان میں معافی مانگ لی
بلال یامین کی گھڑی غائب ہونے کا معاملہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) بلال یامین نے شواہد نہ ملنے پر اعجاز شفیع سے ایوان میں معافی مانگ لی۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف نے چیئرمین نیب کی تقرری میں شفافیت یقینی بنانے کیلئے نئی شرط عائد کر دی
شواہد کی عدم موجودگی
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق بلال یامین نے کہا کہ میں نے دوستوں کے ہمراہ اس دن کی ویڈیو دیکھی، اور مجھے اعجاز شفیع کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شاید میری اس گھڑی سے انسیت تھی جس کی وجہ سے میں نے اعجاز شفیع کا نام لیا، جس سے ان کی دل آزاری ہوئی، اس لیے میں ایوان میں ان سے معافی مانگتا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: اطالوی بحریہ کے جہاز آئی ٹی ایس انتونیو مارچیلیاکی پاک بحریہ کے ساتھ شمالی بحیرۂ عرب میں مشترکہ مشق
اعجاز شفیع کا ردعمل
اس موقع پر اعجاز شفیع نے کہا کہ یہ طریقہ نہیں ہے، سپیکر صاحب، آپ ان کی تربیت کریں۔ اپنی پارٹی کو خوش کرنے کے لیے گھٹیا الزام تراشی نہ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کی جانب سے بھارتی صحافیوں کو منہ توڑ جواب دینے کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی
سپیکر کا بیان
سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا کہ میرا خیال ہے اب معافی مانگ لی گئی ہے، معاملہ ختم کیا جائے۔
پی ٹی آئی اراکین کا شور
اس پر بلال یامین نے کہا کہ یہ ذمہ داری ہاؤس کی ہے اور سپیکر صاحب، آپ کی ہے کہ میری گھڑی ڈھونڈ کر دیں۔
قبل ازیں پنجاب اسمبلی اجلاس میں گھڑی چوری کے معاملے پر ایوان میں ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی۔ حکومتی رکن آغا علی حیدر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ہی گھڑی چور ہیں۔
آغا علی حیدر کے الفاظ پر پی ٹی آئی اراکین نے شور شرابہ شروع کر دیا، جبکہ حافظ فرحت عباس نے جواب میں کہا کہ آغا حیدر ننکانہ کا کھاد چور ہے۔








