قائمہ کمیٹیاں کیسز ختم کرنے کے لئے نہیں، قانون کے مطابق چلیں گے: اعظم تارڑ
وفاقی وزیر قانون کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ قائمہ کمیٹیاں کیسز ختم کرانے کے لیے نہیں بنائی گئیں، ہم قانون کے پابند ہیں، قانون کے مطابق ہی چلیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایسا ہوا تو بل گیٹس دیوالیہ ہوجائیں گے، ایلون مسک کی بڑی پیشگوئی
کمیٹیوں کے اختیارات
نجی ٹی وی دنیانیوز کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سٹینڈنگ کمیٹی کے رولز سب نے مل کر بنائے ہیں، سٹینڈنگ کمیٹی کے پاس پولیس تفتیش کا اختیار لینے کا حق نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی نژاد کھلاڑی کو ٹیم سے نکالنے پر اماراتی کرکٹ بورڈ کا اہم بیان آ گیا
قائمہ کمیٹیوں کا مقصد
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سٹینڈنگ کمیٹی کے ایجنڈا کا پیج ون اور پیج 17 قیدی نمبر 804 ہو گا تو اسمبلی سیکرٹریٹ کچھ نہیں کر سکے گا، قائمہ کمیٹیاں جیلوں میں اضافی سہولیات لینے کے لیے قائم نہیں کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: میری ذاتی مانیٹرنگ ٹیمیں پورے پنجاب کے امتحانی سنٹرز کی خفیہ مانیٹرنگ پر مامور ہیں: وزیر تعلیم
اپوزیشن کا ردعمل
وفاقی وزیر قانون کی تقریر کے دوران اپوزیشن کا شور شرابہ، ڈیسک بجا کر نعرے بازی کی گئی، اس موقع پر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اپوزیشن تنقید کے ساتھ ساتھ دوسروں کو سننے کا بھی حوصلہ رکھے، ہم پر تنقید کرنے والے اپنے دور میں نفرت کے بیج بوتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صدر آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی بنگلہ دیشی عوام اور طارق رحمان کو مبارکباد
ماضی کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی دور میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں کی گئیں، سیاسی مخالفین کو نشانہ بنایا گیا، اپوزیشن بانی پی ٹی آئی کو خوش کرنے کے لیے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے، کسی وزیر کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ کرپشن کیسز معاف کر دے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک کمزوری تھی مطلب کا جواب نہ ملے تو ناراض ہو جاتی تھیں، اکثر خفا ہی رہیں، ان کے فقرے میں تلخی بہت تھی، میرا دل ٹوٹ گیا آنکھوں میں آنسو ا تر آئے۔
وزارت انسانی حقوق کے اختیارات
انہوں نے کہا کہ کاش وزارت انسانی حقوق کے پاس کرپشن کیسز کی سزا معطلی کا اختیار ہوتا تو میں حاضر تھا، کاش جیل میں میاں بیوی کو ساتھ رکھنے کا اختیار ہوتا تو میں ضرور کرتا۔
یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق کے بعد ہمیں اتنے جہازوں کے آرڈر مل رہے ہیں کہ 6 ماہ بعد آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہنے کی پوزیشن میں ہوں گے، خواجہ آصف
چادر و چاردیواری کی پامالی
وفاقی وزیر قانون نے سوال کیا کہ کیا مریم نواز کے کمرے کا دروازہ توڑنے پر چادر و چاردیواری پامال نہیں ہوتی، فریال تالپور کو عید سے پہلے جیل میں ڈالا گیا، چادر و چاردیواری پامال نہیں ہوئی؟
یہ بھی پڑھیں: موساد افراد کو نہیں، اُن کے آلات کو ٹریک کرتا ہے، سابق سی آئی اے افسر کا انکشاف
ملکی ترقی میں بہتری کی امید
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مجھے خوشی ہوتی اگر یہ کہا جاتا ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ انٹرنیشنل سطح پر اے سٹیٹس ملا ہے، چائلڈ میرج ایکٹ، کرسچن میرج ایکٹ پر بات ہوتی تو خوشی ہوتی، اس معصوم موضوع کو سیاست کی نذر کر دیا۔
بجٹ ایلوکیشن اور قائمہ کمیٹیاں
انہوں نے کہا کہ بجٹ ایلوکیشن کا قائمہ کمیٹی سے کیا تعلق ہے؟ وزارت انسانی حقوق کے پاس چار کمیشنز ہیں، قائمہ کمیٹیوں کا جیل میں ملاقاتوں، میاں بیوی کو جیلوں میں ملوانے، عدالتوں سے تاریخیں کم کرنے کا اختیار نہیں ہے۔








