جب تک امن نہیں آتا فاٹا میں ٹیکس نہ لگایا جائے: اسد قیصر
اسد قیصر کا بنیادی مطالبہ
ا سلام آ باد (ڈیلی پاکستان آن لائن) رہنما تحریکِ انصاف اسد قیصر کا کہنا ہے کہ ہمارا بنیادی مطالبہ ہے فاٹا پر جو ٹیکس لگایا گیا اس کی کوئی وجہ نہیں، جب تک امن نہیں آتا تب تک ٹیکس نہ لگایا جائے، ہمیں امن دیں تو پھر ہم ٹیکس بھی دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: عبیرہ ضیاء کی پارلیمنٹ لاجز میں رکن قومی اسمبلی شمائلہ رانا سے ملاقات، اوورسیز نوجوانوں کی فلاح و بہبود پر مثبت تبادلہ خیال
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو
روزنامہ جنگ کے مطابق اسد قیصر نے کسی مشاورت یا فیصلے کا حصہ نہ ہونے کی وجہ بتادی پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما تحریکِ انصاف اسد قیصر نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کا جو قانونی حق ہے وہ دیا جائے، انہیں اس وقت ناجائز طور پر جیل میں رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی کن ممالک میں بغیر ویزے کے داخل ہو سکتے ہیں؟ فہرست سامنے آ گئی
عدلیہ کی مداخلت پر شدید تنقید
ان کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ عدلیہ اپنے حق کے لیے کھڑی ہو، عدلیہ کے کام میں مداخلت کی جا رہی ہے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، فاٹا کی ڈیولپمنٹ کے لیے ایک ہزار ارب روپے کی بات ہوئی تھی۔
فاٹا کی ڈیولپمنٹ کی کمی
اسد قیصر نے کہا کہ ابھی تک فاٹا کی ڈیولپمنٹ کے لیے کچھ بھی نہیں دیا گیا، ہم اپنے علاقے کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور مزاحمت کرتے رہیں گے۔








