حکومتی ڈیڈ لائن کے بعد غیر قانونی مقیم افغان باشندوں سے کیا سلوک کیا جائے گا؟ ڈپٹی کمشنر چمن حبیب بنگلزئی نے اہم تفصیلات شیئر کر دیں
حکومت کی ڈیڈ لائن اور افغان باشندوں کی واپسی
چمن (ڈیلی پاکستان آن لائن) - حکومتی ڈیڈ لائن کے بعد غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کے بارے میں کیا حکمت عملی ہوگی؟ ڈپٹی کمشنر چمن حبیب بنگلزئی نے اہم معلومات فراہم کی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خواجہ آصف کے کہنے پر عمران خان کو دستیاب سہولیات دکھانے آئیں لیکن اڈیالہ جیل جانے کی اجازت نہیں ملی : علینہ شگری
ڈیڈ لائن کا اعلان
سینئر صحافی سجاد اظہر پیرزادہ کے یوٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے، ڈپٹی کمشنر چمن حبیب بنگلزئی نے کہا کہ افغان باشندوں کے لئے 30 جون کی تاریخ قریب آ رہی ہے اور پی او آر کارڈ رکھنے والے افغانیوں کو پاکستان نے یہ واضح کیا ہے کہ وہ 30 جون کے بعد ریاست چھوڑ کر افغانستان واپس چلے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایڈز کے خلاف قومی حکمت عملی کو مزید موثر بنانے کے لیے پر عزم ہیں: وزیراعظم
غیر قانونی افغان باشندوں کی ڈیپورٹیشن
اب تک، ضلع چمن سے 18 ہزار سے زائد غیر قانونی افغان باشندوں کی ڈیپورٹیشن کی جا چکی ہے۔ ہر بار جب ہمیں اطلاع ملتی ہے کہ غیر قانونی افغانی یہاں رہائش پذیر ہیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بھر میں جنوری سے نومبر 2025 تک صنفی بنیاد پر خواتین پر تشدد کے واقعات کی رپورٹ جاری
واپسی کی تعداد
ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ اب تک چمن بارڈر سے ایک لاکھ سے زائد افغان باشندے اپنے ملک واپس بھیجے جا چکے ہیں، جن میں 5 ہزار سے زائد ای سی سی کارڈ ہولڈرز شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 27ویں ترمیم سے متعلق پیپلز پارٹی جو فیصلہ کرے گی پاکستان کے حق میں ہوگا: شرجیل میمن
جرائم میں ملوث افغان باشندے
حبیب بنگلزئی نے مزید کہا کہ کچھ افغان باشندے مقامی جرائم میں ملوث ہیں۔ ان میں سے بعض اپنی سزائیں کاٹ رہے ہیں جبکہ دیگر کے ٹرائل عدالتوں میں جاری ہیں۔ ایسے افغان باشندوں کی معلومات کو بھی حکام کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شاندار میزبانی پر پاکستان کا شکریہ، پولینڈ مستحکم اور پرامن جنوبی ایشیاء کا خواہاں ہے: نائب وزیراعظم پولینڈ
زمین کے معاملات
ان معاملات میں یہ بھی شامل ہے کہ بعض افغان باشندے کرایہ پر رہتے رہتے زمین خرید رہے ہیں۔ اب تک صرف ضلع چمن سے 400 افغان خاندانوں کو مختلف لوگوں کے گھروں یا زمینوں سے خالی کرایا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی اداکار کمال راشد خان کو فائرنگ کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا
سرکاری سکولز میں داخلہ
ایک سوال کے جواب میں کہ کیا ان افغان باشندوں کے خلاف کارروائی ہوئی ہے جنہوں نے سرکاری سکولز میں بچوں کا داخلہ کرایا ہے، ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ کئی افغان شہریوں کے پاس جعلی شناختی کارڈز اور دستاویزات ہیں۔ ہم ان کی تصدیق کے لئے نادرا کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
آنے والے دنوں کی حکمت عملی
روزانہ 2000 سے زائد غیر قانونی افغان باشندوں کو یہاں سے مختلف اضلاع سے ڈیپورٹ کیا جا رہا ہے۔ 30 جون کے بعد، جو افغانی پی او آر کارڈ کے حامل ہیں اور واپس نہیں جاتے، ان کے خلاف حکومت کی پالیسی کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔








