حکومتی ڈیڈ لائن کے بعد غیر قانونی مقیم افغان باشندوں سے کیا سلوک کیا جائے گا؟ ڈپٹی کمشنر چمن حبیب بنگلزئی نے اہم تفصیلات شیئر کر دیں
حکومت کی ڈیڈ لائن اور افغان باشندوں کی واپسی
چمن (ڈیلی پاکستان آن لائن) - حکومتی ڈیڈ لائن کے بعد غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کے بارے میں کیا حکمت عملی ہوگی؟ ڈپٹی کمشنر چمن حبیب بنگلزئی نے اہم معلومات فراہم کی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی تیل سپلائی کے اثرات کم کرنے کے لیے سعودی عرب نے تیل پیداوار بڑھادی
ڈیڈ لائن کا اعلان
سینئر صحافی سجاد اظہر پیرزادہ کے یوٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے، ڈپٹی کمشنر چمن حبیب بنگلزئی نے کہا کہ افغان باشندوں کے لئے 30 جون کی تاریخ قریب آ رہی ہے اور پی او آر کارڈ رکھنے والے افغانیوں کو پاکستان نے یہ واضح کیا ہے کہ وہ 30 جون کے بعد ریاست چھوڑ کر افغانستان واپس چلے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: سرپسندوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا: آئی جی اسلام آباد
غیر قانونی افغان باشندوں کی ڈیپورٹیشن
اب تک، ضلع چمن سے 18 ہزار سے زائد غیر قانونی افغان باشندوں کی ڈیپورٹیشن کی جا چکی ہے۔ ہر بار جب ہمیں اطلاع ملتی ہے کہ غیر قانونی افغانی یہاں رہائش پذیر ہیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 8ویں جماعت کی طالبہ کی 40 سالہ شخص سے شادی
واپسی کی تعداد
ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ اب تک چمن بارڈر سے ایک لاکھ سے زائد افغان باشندے اپنے ملک واپس بھیجے جا چکے ہیں، جن میں 5 ہزار سے زائد ای سی سی کارڈ ہولڈرز شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قائمہ کمیٹی واقعے پر چیئرمین پی ٹی اے نے وضاحتی بیان جاری کردیا
جرائم میں ملوث افغان باشندے
حبیب بنگلزئی نے مزید کہا کہ کچھ افغان باشندے مقامی جرائم میں ملوث ہیں۔ ان میں سے بعض اپنی سزائیں کاٹ رہے ہیں جبکہ دیگر کے ٹرائل عدالتوں میں جاری ہیں۔ ایسے افغان باشندوں کی معلومات کو بھی حکام کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے لیے نامزد محمود خان اچکزئی کے نام پر اعتراض ، چیف وہپ عامر ڈوگر کو خط لکھ دیا
زمین کے معاملات
ان معاملات میں یہ بھی شامل ہے کہ بعض افغان باشندے کرایہ پر رہتے رہتے زمین خرید رہے ہیں۔ اب تک صرف ضلع چمن سے 400 افغان خاندانوں کو مختلف لوگوں کے گھروں یا زمینوں سے خالی کرایا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے سب سے بڑے پیٹرو کیمیکل پلانٹ کو تباہ کر دیا، اسرائیل امریکہ کے ساتھ شانہ بشانہ جنگ لڑ رہا ہے: اسرائیلی وزیر اعظم
سرکاری سکولز میں داخلہ
ایک سوال کے جواب میں کہ کیا ان افغان باشندوں کے خلاف کارروائی ہوئی ہے جنہوں نے سرکاری سکولز میں بچوں کا داخلہ کرایا ہے، ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ کئی افغان شہریوں کے پاس جعلی شناختی کارڈز اور دستاویزات ہیں۔ ہم ان کی تصدیق کے لئے نادرا کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
آنے والے دنوں کی حکمت عملی
روزانہ 2000 سے زائد غیر قانونی افغان باشندوں کو یہاں سے مختلف اضلاع سے ڈیپورٹ کیا جا رہا ہے۔ 30 جون کے بعد، جو افغانی پی او آر کارڈ کے حامل ہیں اور واپس نہیں جاتے، ان کے خلاف حکومت کی پالیسی کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔








