سندھ طاس معاہدہ: عالمی عدالت کے فیصلہ سے پاکستانی مؤقف کو تقویت ملی، وزیراعظم
وزیراعظم کا خیرمقدم
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی پر مستقل ثالثی عدالت کی طرف سے دیے گئے ضمنی ایوارڈ کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے پاکستانی مؤقف کو تقویت ملی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بالائی علاقوں میں شدید برفباری سے نظام زندگی مفلوج، سڑکیں بند، سیاح محصور، 2 افراد جاں بحق
عدالتی فیصلے کی اہمیت
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلے سے پاکستانی بیانیے کو تقویت ملی ہے، عدالتی فیصلے کے مطابق بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کرسکتا۔
یہ بھی پڑھیں: کپتان بیت الخلاء گیا تو پیچھے معاون پائلٹ بیہوش ہوگیا، طیارہ بناء پائلٹ اڑتا رہا، حیران کن انکشاف
آبی وسائل کی اہمیت
انہوں نے کہا کہ آبی وسائل پر کام کر رہے ہیں، پانی ہماری لائف لائن ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور اٹارنی جنرل منصور اعوان کی کاوشوں کی تعریف بھی کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس بی کا کھیلوں کی فیڈریشنز میں 2مدت سے زیادہ عہدوں پر برقرار رہنے کا نوٹس
عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ
واضح رہے کہ عالمی ثالثی عدالت نے پاکستانی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کی عارضی معطلی کے بھارتی اعلان کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فیصلہ دیا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت جاری ثالثی کو یکطرفہ طور پر نہیں روک سکتا۔ یہ فیصلہ پاکستان کی جانب سے بھارت کے مغربی دریاؤں سندھ، جہلم، چناب پر پن بجلی منصوبوں کے خلاف دائر مقدمے میں جاری کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں 15 سالہ لڑکی کو اغوا اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے افغان نوجوانوں کو سزا
معاہدے کی شقیں
فیصلے کے متن کے مطابق سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے ثالثی عدالت کا کردار نمایاں ہے اور معاہدے کی معطلی کے بھارتی اقدام سے عدالت کی فیصلہ سازی کی حیثیت بالکل متاثر نہیں ہوتی۔ کسی ایک فریق کے معاہدہ معطلی کے یکطرفہ فیصلے سے عدالت اپنی کاروائی نہیں روکے گی اور سندھ طاس معاہدے پر فیصلہ سازی جاری رکھے گی۔
یہ بھی پڑھیں: زرمبادلہ کے ذخائر 23 ملین ڈالر اضافے کے بعد 15.74 ارب ڈالر ہوگئے
ثالثی کے کردار کی حفاظت
متن میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالت نے سندھ طاس معاہدے کا بغور جائزہ لیا، سندھ طاس معاہدے میں کہیں بھی یکطرفہ طور پر اسے معطل کرنے کی شق شامل نہیں۔ سندھ طاس معاہدے کا اطلاق پاکستان اور بھارت کے اسے معطل کرنے کے متفقہ فیصلے کے بغیر جاری رہے گا۔ کوئی بھی فریق یعنی بھارت یکطرفہ طور پر کسی بھی مسئلے کے حل کیلئے ثالثی کاروائی کو روک نہیں سکتا۔
عدالت کی فیصلہ سازی کی ذمہ داری
ثالثی عدالت کے مطابق مسائل کے حل میں ثالث کے کردار کو روکنے کی کوشش سندھ طاس معاہدے میں موجود ثالث کے ذریعے تنازعات کے حل کی لازم شق کی خلاف ورزی ہے۔ ان تمام حقائق کی روشنی میں عدالت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ بھارت کو سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ طور پر ثالثی کاروائی روکنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے تنازعات کے حل کیلئے ثالثی عدالت اپنا ذمہ دارانہ، منصفانہ اور مؤثر کردار ادا کرتی رہے گی۔








