فیصلے سے مایوسی ہوئی، کسی کو ابہام نہ رہے کہ ہمارے ارکان آزاد ہیں: بیرسٹر گوہر

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کا بیان

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)   چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ کسی کو ابہام نہ رہے کہ ہمارے ارکان آزاد ہیں، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد ہمارے ارکان سنی اتحاد کونسل کے تصور ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں دہشتگردوں کو تربیت دی جاتی ہے، پاکستان نے جارحیت کا بھرپور انداز میں جواب دیا : عطاء تارڑ

پریس کانفرنس کی تفصیلات

نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہم الیکشن کمیشن گئے، ہمارے 86 ارکان کا نوٹیفکیشن جاری ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے کل کے فیصلے سے مایوسی ہوئی، ہمارے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو آزاد قرار نہیں دیا جاسکتا۔

یہ بھی پڑھیں: تقرریاں و تبادلے

ناانصافی اور جدوجہد

بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ ناانصافی پر افسوس ہوا، جدوجہد جاری رکھیں گے، پی ٹی آئی کے بغض میں اتنی ناانصافی نہ کریں، مخصوص نشستوں پر ایم این ایز کا نوٹیفکیشن ہوچکا تھا اور کسی نے اسے چیلنج نہیں کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کرک میں بارش سے تباہی، طغیانی کے باعث 2 افراد پانی میں بہہ گئے

امیدیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے

انہوں نے کہا کہ ہمیں امید تھی کہ یہ سیٹیں واپس ملیں گی کیونکہ سپریم کورٹ کے آٹھ ججوں نے یہ سیٹیں ہمیں دی تھیں۔ بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے طریقہ کار کی پیروی نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: اچانک ٹاوٹ صحافی ایک دم سے حکومت کے خلاف بولنا شروع ہو گئے ہیں، سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا ہواہے : عدیل راجہ

جمہوریت کے لیے کوششیں

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ جمہوریت کے ساتھ رہیں، ہمارا مینڈیٹ چوری ہی سہی لیکن ہماری سیٹیں 80 تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: بیرونی پشت پناہی میں سرگرم دہشتگردوں کا مکمل خاتمہ قومی اتفاقِ رائے سے جاری رہے گا: صدر زرداری

الیکشن کمیشن کا کردار

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہمیں آزاد قرار دیا، بیان حلفی سنی اتحاد کونسل کے نام پر جمع کرایا تھا، مگر ہماری سیٹیں دیگر جماعتوں کو دے دی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا کے 61 ممالک میں 21 ہزار 647 پاکستانی قید ہونے کا انکشاف

سینیٹر شبلی فراز کی رائے

سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت آئین کی صورت بگاڑ دی گئی ہے۔ ان کے بقول، آئین کے مطابق 90 دن میں انتخابات ہونے تھے لیکن جب خیال آیا کہ تحریک انصاف ختم ہوگئی ہے، تب الیکشن کروائے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کا بلوچستان میں ریکوڈک منصوبے پر 1.25 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان

پی ٹی آئی کی انتخابی حمایت

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا انتخابی نشان نہ ہونے کے باوجود عوام نے اسے ووٹ دیا لیکن امیدواروں کو بلیک میل کیا گیا۔ شبلی فراز نے الیکشن کمیشن کے کردار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ سینیٹ انتخابات سندھ اور پنجاب میں ہوئے، مگر قومی اسمبلی کے سینیٹ انتخابات نہیں کرائے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا بیوروکریسی سے دفعہ 144 اور کرفیو نافذ کرنے کا اختیار واپس لینے کا فیصلہ

حکومتی کردار پر تنقید

انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیر خزانہ صرف قرض لینے پر توجہ دے رہے ہیں اور ملک میں ترقی یا خودمختاری کا کوئی منصوبہ نظر نہیں آ رہا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا پارلیمانی نظام کے عالمی دن پر پیغام جاری

کنول شوزب کا تنقید کا نقطہ نظر

پی ٹی آئی رہنما کنول شوزب نے عدالتی فیصلے کو پاکستان کی تاریخ کا ایک ”تاریک دن“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے عوامی مینڈیٹ کی تضحیک کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”پاکستانی عوام نے بانی پی ٹی آئی کے امیدواروں کو ووٹ دیا، مگر جنہیں عوام نے مسترد کیا، ان کی جھولی میں سیٹیں ڈال دی گئیں۔”

آئینی سوالات

کنول شوزب نے کہا کہ کیا آئین یا الیکشن ایکٹ میں کہیں لکھا ہے کہ سیٹیں اس طرح بانٹی جائیں گی؟، الیکشن پر پہلے بھی ڈاکہ ڈالا گیا اور کل ایک بار پھر یہ عمل دہرایا گیا۔ کنول شوزب کے مطابق اس فیصلے کے اثرات ہر سطح پر اسمبلی کی سیاست پر پڑیں گے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...