فیصلے سے مایوسی ہوئی، کسی کو ابہام نہ رہے کہ ہمارے ارکان آزاد ہیں: بیرسٹر گوہر
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ کسی کو ابہام نہ رہے کہ ہمارے ارکان آزاد ہیں، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد ہمارے ارکان سنی اتحاد کونسل کے تصور ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سونا 4700 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
پریس کانفرنس کی تفصیلات
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہم الیکشن کمیشن گئے، ہمارے 86 ارکان کا نوٹیفکیشن جاری ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے کل کے فیصلے سے مایوسی ہوئی، ہمارے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو آزاد قرار نہیں دیا جاسکتا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی حکومت نے شراب پر عائد پابندی ختم کرنے کی خبروں پر رد عمل جاری کر دیا
ناانصافی اور جدوجہد
بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ ناانصافی پر افسوس ہوا، جدوجہد جاری رکھیں گے، پی ٹی آئی کے بغض میں اتنی ناانصافی نہ کریں، مخصوص نشستوں پر ایم این ایز کا نوٹیفکیشن ہوچکا تھا اور کسی نے اسے چیلنج نہیں کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: حیدرآباد سے فتنہ الہندوستان کے روپوش 2 دہشتگرد گرفتار
امیدیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے
انہوں نے کہا کہ ہمیں امید تھی کہ یہ سیٹیں واپس ملیں گی کیونکہ سپریم کورٹ کے آٹھ ججوں نے یہ سیٹیں ہمیں دی تھیں۔ بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے طریقہ کار کی پیروی نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ، آئندہ حکمت عملی سے متعلق اہم ہدایت کردی
جمہوریت کے لیے کوششیں
چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ جمہوریت کے ساتھ رہیں، ہمارا مینڈیٹ چوری ہی سہی لیکن ہماری سیٹیں 80 تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی میں معمولاتِ زندگی بحال، پابندیاں ختم
الیکشن کمیشن کا کردار
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہمیں آزاد قرار دیا، بیان حلفی سنی اتحاد کونسل کے نام پر جمع کرایا تھا، مگر ہماری سیٹیں دیگر جماعتوں کو دے دی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: جدہ کیوں پہنچایا؟ متاثرہ مسافر نے نجی ایئرلائن انتظامیہ کو لیگل نوٹس بھیج دیا
سینیٹر شبلی فراز کی رائے
سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت آئین کی صورت بگاڑ دی گئی ہے۔ ان کے بقول، آئین کے مطابق 90 دن میں انتخابات ہونے تھے لیکن جب خیال آیا کہ تحریک انصاف ختم ہوگئی ہے، تب الیکشن کروائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر قانون سے یونیورسٹی آف لندن کے وفد کی ملاقات، قانونی تعلیم میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
پی ٹی آئی کی انتخابی حمایت
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا انتخابی نشان نہ ہونے کے باوجود عوام نے اسے ووٹ دیا لیکن امیدواروں کو بلیک میل کیا گیا۔ شبلی فراز نے الیکشن کمیشن کے کردار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ سینیٹ انتخابات سندھ اور پنجاب میں ہوئے، مگر قومی اسمبلی کے سینیٹ انتخابات نہیں کرائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تقرری قوم کی امیدوں اور ملکی سلامتی کے تقاضوں کے عین مطابق ہے، نوابزادہ جمال خان رئیسانی
حکومتی کردار پر تنقید
انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیر خزانہ صرف قرض لینے پر توجہ دے رہے ہیں اور ملک میں ترقی یا خودمختاری کا کوئی منصوبہ نظر نہیں آ رہا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی نیوز چینل کا ’’ٹرمپ کی کارکردگی‘‘ پر پول سروے جاری، عوام کی اکثریت نے مسترد کر دیا
کنول شوزب کا تنقید کا نقطہ نظر
پی ٹی آئی رہنما کنول شوزب نے عدالتی فیصلے کو پاکستان کی تاریخ کا ایک ”تاریک دن“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے عوامی مینڈیٹ کی تضحیک کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”پاکستانی عوام نے بانی پی ٹی آئی کے امیدواروں کو ووٹ دیا، مگر جنہیں عوام نے مسترد کیا، ان کی جھولی میں سیٹیں ڈال دی گئیں۔”
آئینی سوالات
کنول شوزب نے کہا کہ کیا آئین یا الیکشن ایکٹ میں کہیں لکھا ہے کہ سیٹیں اس طرح بانٹی جائیں گی؟، الیکشن پر پہلے بھی ڈاکہ ڈالا گیا اور کل ایک بار پھر یہ عمل دہرایا گیا۔ کنول شوزب کے مطابق اس فیصلے کے اثرات ہر سطح پر اسمبلی کی سیاست پر پڑیں گے۔








