امریکہ اگر دوبارہ مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو اسے ایران پر مزید حملوں کے امکان کو مسترد کرنا ہوگا: نائب ایرانی وزیر خارجہ
ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کا بیان
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن )ایران کے نائب وزیرِ خارجہ مجید تخت روانچی کا کہنا ہے کہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے سے قبل امریکہ کو ایران پر مزید کسی بھی حملے کا امکان خارج کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: کرسٹیانو رونالڈو نے 2026 ورلڈ کپ کو اپنے کیریئر کا آخری ایونٹ قرار دے دیا
نئی مذاکرات کی درخواست
مجید تخت روانچی نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ثالثوں کی وساطت سے ایران کو بتایا ہے کہ وہ دوبارہ مذاکرات شروع کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تاہم امریکی انتظامیہ نے اس ‘انتہائی اہم سوال’ کے بارے میں اپنی پوزیشن واضح نہیں کی ہے کہ کہیں مذاکرات کے دوران دوبارہ تو حملے نہیں کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ٹیم کو بڑا دھچکا، ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے قبل اہم کھلاڑی انجری کا شکار ہو گیا
اسرائیلی حملوں کا اثر
13 جون کو شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں مسقط میں امریکہ اور ایران کے درمیان بلاواسطہ مذاکرات کا چھٹا دور رک گیا تھا۔ بالآخر 22 جون کو امریکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری اس فوجی تنازع میں اس وقت براہِ راست شامل ہو گیا جب اس نے ایران کی تین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور ارکان پنجاب اسمبلی کے لیے میدان میں آگئے، پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی
ایران کے جوہری پروگرام پر موقف
تخت روانچی کا کہنا تھا کہ ایران پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت برقرار رکھنے پر ‘اصرار’ کرے گا۔ انھوں نے ان الزامات کو مسترد کیا کہ ایران خفیہ طور پر جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دسمبر بے وفا نکلا …
مذاکرات کے نئے آغاز کی عدم موجودگی
ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے لیے کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انھیں اندازہ نہیں کہ مذاکرات کے ایجنڈے میں کیا شامل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: توثیق حیدر کے عمرے کے دوران ٹیٹوز نے نئی بحث چھیڑ دی
ٹرمپ کی جانب سے اعلان
خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات رواں ہفتے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔
یورینیم کی افزودگی پر تبصرہ
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے لیے ضروری تحقیقی پروگرام کے لیے ‘جوہری مواد تک رسائی سے انکار’ کر دیا گیا ہے۔ نائب وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ اس بارے میں بات ہو سکتی ہے کہ ایران کو کس حد تک یورینیم افزودہ کر سکتا ہے۔ 'مگر یہ کہنا کہ آپ کو [یورینیم] افزودہ نہیں کرنی چاہیے، آپ کے پاس صفر افزودگی ہونی چاہیے، اور اگر آپ اس سے اتفاق نہیں کریں گے تو ہم آپ پر بمباری کریں گے - یہ جنگل کا قانون ہے۔'








