قازقستان میں نقاب پر پابندی: عوامی جگہوں پر چہرہ چھپانا غیر قانونی قرار
قازقستان میں خواتین کے نقاب پر پابندی
آستا نہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) قازقستان نے عوامی مقامات پر خواتین کے نقاب پہننے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست احتجاج؛ پی ٹی آئی کارکنان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم
نئے قانون کی تفصیلات
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق صدر قاسم جومارت توقایف نے نئے قانون پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت ایسے کپڑوں پر پابندی ہوگی جو شناخت میں رکاوٹ بنیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایڈز کے خلاف قومی حکمت عملی کو مزید موثر بنانے کے لیے پر عزم ہیں: وزیراعظم
پابندی کی نوعیت
سرکاری اعلامیے کے مطابق، یہ پابندی صرف مذہبی لباس پر نہیں بلکہ ہر اس لباس پر لاگو ہوگی جو چہرہ مکمل چھپا دے اور کسی کی شناخت میں رکاوٹ بنے۔ البتہ، طبی، موسمی، کھیلوں یا ثقافتی تقریبات کے دوران ایسے لباس کو اجازت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی مسیحیوں نے دبئی میں “کرسمس ڈے” منایا
تحلیل اور تشریحات
اگرچہ قانون میں مذہب یا حجاب کا ذکر نہیں کیا گیا، لیکن تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ پابندی نقاب کو ہی ہدف بنا رہی ہے۔ صدر توقایف پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ لوگوں کو "سیاہ چہرہ چھپانے والے لباس" کی بجائے قومی لباس پہننا چاہیے جو قازقستان کی ثقافت اور شناخت کو اجاگر کرے۔
علاقائی تناظر
یہ اقدام وسطی ایشیا میں اسلامی لباس کے خلاف بڑھتی ہوئی سرکاری پالیسیوں کا حصہ ہے۔ کرغزستان، ازبکستان اور تاجکستان جیسے ممالک بھی ایسے ہی قوانین پہلے ہی نافذ کر چکے ہیں۔








