پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارت کا بھیانک چہرہ اور ناپاک عزائم بے نقاب کردیئے
پاکستان کا جواب
نیویارک(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان نے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس میں بھارت کا بھیانک چہرہ اور ناپاک عزائم دنیا کے سامنے بے نقاب کردیئے۔
یہ بھی پڑھیں: سٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان برقرار، ایک لاکھ 20 ہزار پوائنٹس کی حد بحال
جوابی بیان
نجی ٹی وی ’’ایکسپریس نیوز‘‘ کے مطابق بھارتی بیان کے جواب میں سیکنڈ سیکرٹری ربیعہ اعجاز نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جوابی بیان دیا، جس میں انہوں نے کہا کہ ’’مجھے بھارتی مندوب کے ریمارکس کا جواب دینے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ یہ ایک کلاسیکی مثال ہے جس میں مظلوم بننے کا دعویٰ اصل میں مظالم ڈھانے والا کرتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھیں: پاکستان علما کونسل کا آئندہ جمعہ یوم استحکام پاکستان کے طورپر منانے کا اعلان
بھارتی ریاستی نظام
انہوں نے کہا کہ ایک ایسا ریاستی نظام، جس نے نفرت کو بطور ہتھیار استعمال کیا، ہجوم کے تشدد کو معمول بنایا اور امتیازی سلوک کو اپنے ہی شہریوں اور مقبوضہ علاقوں کے لوگوں کے خلاف قانون کا حصہ بنا دیا۔ اسے ’ذمہ داری برائے تحفظ‘ (R2P) پر کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے 19 ممالک کے تارکین وطن کی امیگریشن درخواستوں کو روک دیا،نیویارک ٹائمز کا دعویٰ
حقیقت کی عکاسی
ربیعہ اعجاز کا کہنا تھا کہ ’’بی جے پی-آر ایس ایس کے تحت بھارت ایک اکثریتی آمریت میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں تمام اقلیتیں، مسلمان، عیسائی، اور دلت مسلسل خوف و جبر کے سائے تلے زندگی گزار رہے ہیں۔ لنچنگ پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ بلڈوزر اجتماعی سزا کا ذریعہ بن چکے ہیں، مساجد کو شہید کیا جاتا ہے اور شہریت کا حق مذہب کی بنیاد پر چھینا جاتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ بینک نے بلوچستان کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ ڈالر امداد کی منظوری دے دی
جموں و کشمیر کی صورتحال
انہوں نے کہا کہ یہ کسی عوام کی حفاظت نہیں، بلکہ ان کا ریاستی سطح پر ظلم ہے۔ ایسا ظلم جو قانون کی آڑ میں کیا جاتا ہے، اقتدار اسے فخر سے پیش کرتا ہے اور پھر بھی، بھارتی وفد بین الاقوامی اصولوں کی بات کرتا ہے، جب کہ بھارت نے نہ صرف اپنے ہی لوگوں بلکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو بھی دبا رکھا ہے، خاموش کرا رکھا ہے اور بری طرح ناکام ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نیوی کو تیار دیکھ کر دشمن کو آگے بڑھنے کی ہمت نہیں ہوئی : وائس ایڈمرل رب نواز
اقوام متحدہ کی قراردادیں
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستانی سیکنڈ سیکرٹری کا مزید کہنا تھا کہ ’’جہاں تک جموں و کشمیر کا تعلق ہے، بھارت کا یہ دعویٰ کہ یہ اس کا "اٹوٹ انگ" یا "اندرونی معاملہ"ہے، مکمل طور پر سیاسی اور قانونی طور پر جھوٹ پر مبنی ہے کیوں کہ جموں و کشمیر نہ کبھی بھارت کا حصہ تھا، نہ ہے۔ اقوام متحدہ نے اسے متنازع علاقہ تسلیم کیا ہے۔ سلامتی کونسل کی متعدد قراردادیں ، جن میں قرارداد 47 (1948)، 91 (1951) اور 122 (1957) شامل ہیں اور اقوام متحدہ کے کمیشن برائے بھارت و پاکستان کی قراردادیں، کشمیری عوام کے اس حق کو تسلیم کرتی ہیں کہ وہ آزاد اور غیر جانب دارانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی ٹیسٹ کے پہلے روز کا کھیل ختم ، انگلش ٹیم 267 رنز پر ڈھیر، 73 پر 3 شاہین بھی پویلین لوٹ گئے
بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی
انہوں نے کہا کہ بھارت نے ان قراردادوں کو تسلیم کیا تھا اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 25 کے تحت اس پر عمل درآمد کا پابند ہے۔ اس سے انکار، بین الاقوامی قانون کی مسلسل خلاف ورزی ہے، لیکن بھارت کے جرائم صرف قبضے تک محدود نہیں۔ 6 اور 7 مئی 2025 کو بھارت نے پاکستان کے شہری علاقوں پر بلا اشتعال اور جان بوجھ کر حملہ کیا، جس میں 35 معصوم افراد شہید ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: بالغ لڑکا اور لڑکی پسند کی شادی کر سکتے ہیں: سندھ ہائیکورٹ
بچوں کی حفاظت پر سوالات
انہوں نے مزید کہا کہ جہاں پاکستان، بچوں کے تحفظ سے اپنی وابستگی کی بنیاد پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی رپورٹ برائے بچوں اور مسلح تنازعات سے نکالا جا رہا ہے، وہیں بھارت نے حال ہی میں پاکستان میں 15 بچوں کو شہید کیا۔ یہ کوئی عسکری جھڑپ نہیں تھی، بلکہ ایک قتلِ عام تھا۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان اعلیٰ عدلیہ میں ججز تعیناتی کیس؛ وفاق کو مجوزہ آرڈر 2019 پسند نہیں تو دوسرا بنا لے لیکن کچھ تو کرے، جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس
بھارتی دہشتگردی
ربیعہ اعجاز نے کہا کہ بھارت کی ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی بھی دستاویزی طور پر ثابت ہے۔ 2014 کے آرمی پبلک سکول پر حملے سے لے کر حالیہ خضدار سکول بس پر حملے تک، بھارتی خفیہ اداروں کے نشانات واضح ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: موجودہ حکومت نے کسان کا 22 ارب روپے کا نقصان کیا، آج گندم خریدنے والا کوئی نہیں، ملک احمد بھچر
بین الاقوامی برادری کا کردار
اسی طرح تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کی بھارتی پشت پناہی کے ذریعے بھارت پاکستان کے خلاف ایک خفیہ جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ محض قیاس آرائی نہیں بلکہ بھارتی سابقہ حکام کے عوامی اعترافات اس کا ثبوت ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا ؟
خلاصہ
انہوں نے کہا کہ ’’ذمہ داری برائے تحفظ‘‘(R2P) ان ریاستوں کے لیے ایک نعرہ نہیں بننا چاہیے جو خود مسلسل مظالم کے مرتکب ہوں۔ یہ ان کے لیے پردہ نہیں بن سکتی جو اپنے ملک میں حقوق کا انکار کرتے ہیں اور بیرون ملک انتشار پھیلاتے ہیں۔ اگر بین الاقوامی برادری واقعی تحفظ کے اصول پر سنجیدہ ہے تو اسے سب سے پہلے ان ریاستوں سے کمزور اور مظلوم آبادیوں کو بچانا ہوگا، جن میں بھارت بھی شامل ہے۔
برابری کا مطالبہ
پاکستانی سیکنڈ سیکرٹری کا کہنا تھا کہ یہاں کوئی استثنا نہیں ہونا چاہیے، کوئی اندھا مقام نہیں ہونا چاہیے اور کوئی دہرا معیار قبول نہیں ہونا چاہیے۔








