فنڈز مل گئے، اسکولوں میں کام کی کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا: وزیر تعلیم
اجلاس کی تفصیلات
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی زیر صدارت پنجاب کے ڈپٹی کمشنرز اور سی ای اوز کا اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں سکولوں میں سہولیات کے فقدان کو دور کرنے اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے اقدامات کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کی رحیم یار خان، چنیوٹ، لیہ اور بہاولنگر بار ایسوسی ایشنز کیلیے 2 کروڑ روپے کی گرانٹس
سکولوں کی سہولیات کی بہتری
وزیر تعلیم نے سکولوں میں کمروں، دیواروں، فلٹریشن پلانٹس، فرنیچر اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات کی رفتار کو تیز کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ گرمی کی چھٹیوں کے دوران سہولیات کا فقدان دور کرنے اور سکولوں کو ٹرانسفارم کرنے کے لیے فعال کردار ادا کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: جوبائیڈن نے ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے سے قبل کونسا کام کرنے کا فیصلہ کر لیا ؟ بڑی خبر
ڈپٹی کمشنرز اور ایجوکیشن افسران کی تعاون
رانا سکندر حیات نے کہا کہ سکولوں کو ماڈل طرز پر بنانے کے لیے ڈپٹی کمشنرز اور ایجوکیشن افسران کی مربوط مشاورت ضروری ہے۔ سکولوں میں سہولیات کی فراہمی کے لیے فنڈز جاری ہو چکے ہیں، اور اربوں روپے کے یہ فنڈز ایک بڑی ذمہ داری ہیں۔ اس کے مؤثر استعمال اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین اور بچوں پر تشدد کرنیوالوں سے نرمی نہیں برتی جائے گی: گھریلو تشدد کی شکار 13سالہ بچی سے چیئرپرسن ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کی ملاقات
کوالٹی کی مانیٹرنگ
وزیر تعلیم نے یہ بھی بتایا کہ کام کی کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اس ضمن میں کوالٹی کی مانیٹرنگ کے لیے ڈپٹی کمشنرز کا کردار انتہائی اہم ہوگا۔
پچھلوں کے تجربات
رانا سکندر حیات نے مزید کہا کہ ماضی میں 50 لاکھ والا کمرہ 12 لاکھ میں بنا کر ٹیکس کے پیسے کی بچت کی گئی۔ اسی طرح کم لاگت اور شفافیت سے کام کر کے عوامی وسائل کی بچت کی مثال قائم کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سکولوں سے فیک انرولمنٹ ختم کر دی گئی ہے۔ اب سی ای اوز کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا ڈیٹا درست اور مکمل رکھیں، کیونکہ وہ کسی بھی وقت چیک کریں گے اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔








