لوگوں کو خوراک میں ملاوٹ جیسی قبیح برائی کی اہمیت بتاتے ہوئے خطوط پر دستخط کروانے کیلئے مہم چلائی گئی، تمام خطوط کو روزانہ پوسٹ کیا جاتا ہے۔
کردار کا تعارف
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 85
یہ بھی پڑھیں: دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کا بریک ڈاؤن، پانی کی فراہمی متاثر
گورنمنٹ فوڈ لیبارٹری کا انچارج
ان دنوں گورنمنٹ فوڈ لیبارٹری کے انچارج اینالسٹ، کوئی علوی صاحب تھے جن کا پورا نام میں بھول رہا ہوں۔ وہ کافی میچور اور جہاندیدہ شخصیت دکھائی دئیے۔ جنہوں نے تاجروں، دکانداروں کے سوالوں کے جوابات تسلی بخش انداز میں دئیے اور ان کی تمام شکایات کے ازالے کا یقین دلایا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کی 16 سالہ فٹسال کھلاڑی ایمن علی ٹیم سے جدید سامان حاصل کرکے اپنے خواب کی تعبیر کے قریب
خوراک میں ملاوٹ کے خلاف مہم
بعدازاں خوراک میں ملاوٹ کے خلاف شروع کی گئی مہم کی آرگنائزنگ کمیٹی کے ایک فیصلہ کی روشنی میں ہم نے 5 پیسہ والے ایک ہزار پوسٹ کارڈ ڈاک خانے سے منگوائے اور ان خطوط پر اس مہم کے چارٹر آف ڈیمانڈ کی تمام تجاویز کو پرنٹ کروایا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں سموگ کے خاتمے کے اقدامات ، عوامی رائے جاننے کیلئے سروے ، عوام نے کس شخصیت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر دیا ؟ جانیے
دستخطی مہم کی تشکیل
ہمارے کارکنوں نے ان خطوط پر لوگوں کے دستخط کروانے اور بنام گورنر مغربی پاکستان بھجوانے کے لئے ریلوے سٹیشن کے مین دروازے کے باہر اور ریگل چوک میں 2 بوتھ قائم کئے۔ وہاں آنے جانے والے لوگوں کو خوراک میں ملاوٹ جیسی قبیح برائی کی اہمیت بتاتے ہوئے ان سے ان خطوط پر دستخط کروانے کے لیے دستخطی مہم چلائی گئی۔ تمام خطوط کو روزانہ پوسٹ کیا جاتا تھا۔ اس طرح ایک ہفتہ میں تمام خطوط گورنر مغربی پاکستان جنرل (ر) محمد موسیٰ خان کو ارسال کر دیئے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں، مشکل معاشی حالات میں تمام سیاسی قوتوں کو اختلافات بالائے طاق رکھ کر کام کرنا ہوگا،بلاول بھٹو
حکومتی کمیٹیوں میں شرکت
انہی دنوں مجھے ضلعی سطح کی حکومتی ملاوٹ کمیٹی اور مہنگائی کمیٹیوں کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی جانب سے مدعو کیا جاتا رہا۔ میں 2 مرتبہ ان کمیٹیوں کے اجلاسوں میں شریک ہوا لیکن ان اجلاسوں میں مسائل کے حل کے ضمن میں کوئی خاص قابلِ ذکر بات نظر نہ آئی۔ میرا تاثر یہی تھا کہ مسائل کے حل کے لئے حکومتی سطح پر رسمی کارروائی کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بابراعظم پر جنسی ہراسانی کا الزام، اندراج مقدمہ کے لیے رجوع کرنے والی خاتون لاہور ہائی کورٹ طلب
صوبائی سیکرٹری صحت کے ساتھ ملاقات
کچھ دنوں بعد مجھے خوراک میں ملاوٹ کے خلاف چلائی گئی مہم کے ناظم کی حیثیت سے مغربی پاکستان کے صوبائی سیکرٹری محکمہ صحت کی جانب سے خط موصول ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ خوراک میں ملاوٹ کا مسئلہ صوبائی محکمہ صحت کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ لہٰذا یوتھ موومنٹ کی ملاوٹ کمیٹی کے ارکان سے درخواست کی گئی کہ وہ مقررہ تاریخ پر صبح 10 بجے ان کے دفتر واقع سیکرٹریٹ بالمشافہ ملاقات کے لئے تشریف لائیں۔
یہ بھی پڑھیں: عام انتخابات سے متعلق بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کا اہم بیان آ گیا
مشاورت کا عمل
چنانچہ تاریخ مقررہ پر اپنی کمیٹی کے ارکان جناب ضیاء الاسلام انصاری، شباب مفتی ایڈووکیٹ، ڈاکٹر انوار الحق اور ریٹائرڈ سیکرٹری مغربی پاکستان کواپریٹو یونین، جن کا نام میرے ذہن سے محو ہو گیا ہے، کی ہمراہی میں سیکرٹری ہیلتھ سے مقررہ تاریخ پر جا کر ملے۔ سیکرٹری ہیلتھ، جن کا نام میں بھول رہا ہوں، بڑے تپاک سے پیش آئے۔ ان سے 10 بجے تا ایک بجے تک روزانہ ملاقاتیں 3 دن تک جاری رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہندوستانی عدالت نے شوہر سے علیحدگی کے بعد بچے کی ذمہ داری اٹھانے والی ماں کو نان نفقہ کا حق دار قرار دے دیا
طرف کرنے والی تجاویز
سیکرٹری ہیلتھ کو ہمارے دوستوں نے تفصیل سے سمجھانے کی کوشش کی کہ اشیاء خوراک کی کھلی فروخت قانونی طور پر بند کر دی جائے۔ تمام اشیائے خوردنی کو بند پیکٹوں میں فروخت کرنے کی اجازت ہونی چاہئے، جن کے لیبل پر تیار کنندگان کا نام پتہ درج ہو تاکہ ملاوٹ ہونے کی صورت میں صحیح ذمہ دار ملاوٹ کنندگان کو قانون کی گرفت میں لایا جا سکے۔ اشیائے خوردنی میں ملاوٹ کے مرتکب ملزمان کے لیے سزائے موت تجویز کی گئی تھی کیونکہ ملاوٹ کرنے والے ملک و قوم کے دشمن ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ 9مئی میں سہیل آفریدی سمیت جو بھی ملوث ہیں اُنہیں سزا ہونی چاہیے، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی
قانونی ترامیم کی سفارشات
اس ضمن میں پیور فوڈ ایکٹ میں ضروری ترامیم تجویز کی گئی تھیں۔ ہماری تجاویز میں یہ بھی سفارش کی گئی تھی کہ ملاوٹ کے مرتکب ملزمان کے خلاف مقدمات سننے کے لئے بڑے شہروں لاہور، کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں سپیشل کورٹس قائم کی جائیں۔ ایک چوتھی تجویز میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ حکومت ازخود اپنے طور پر خالص اشیائے خوردنی کے ماڈل سٹورز قائم کرے۔(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








