لوگوں کو خوراک میں ملاوٹ جیسی قبیح برائی کی اہمیت بتاتے ہوئے خطوط پر دستخط کروانے کیلئے مہم چلائی گئی، تمام خطوط کو روزانہ پوسٹ کیا جاتا ہے۔
کردار کا تعارف
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 85
یہ بھی پڑھیں: لاؤڈ سپیکر میں اذان سے پہلے درود پڑھنے پر امام مسجد کے خلاف مقدمہ درج، گوجرہ بار کا ہڑتال کا اعلان
گورنمنٹ فوڈ لیبارٹری کا انچارج
ان دنوں گورنمنٹ فوڈ لیبارٹری کے انچارج اینالسٹ، کوئی علوی صاحب تھے جن کا پورا نام میں بھول رہا ہوں۔ وہ کافی میچور اور جہاندیدہ شخصیت دکھائی دئیے۔ جنہوں نے تاجروں، دکانداروں کے سوالوں کے جوابات تسلی بخش انداز میں دئیے اور ان کی تمام شکایات کے ازالے کا یقین دلایا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا عندیہ دیدیا
خوراک میں ملاوٹ کے خلاف مہم
بعدازاں خوراک میں ملاوٹ کے خلاف شروع کی گئی مہم کی آرگنائزنگ کمیٹی کے ایک فیصلہ کی روشنی میں ہم نے 5 پیسہ والے ایک ہزار پوسٹ کارڈ ڈاک خانے سے منگوائے اور ان خطوط پر اس مہم کے چارٹر آف ڈیمانڈ کی تمام تجاویز کو پرنٹ کروایا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف کی ایران پر امریکی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت
دستخطی مہم کی تشکیل
ہمارے کارکنوں نے ان خطوط پر لوگوں کے دستخط کروانے اور بنام گورنر مغربی پاکستان بھجوانے کے لئے ریلوے سٹیشن کے مین دروازے کے باہر اور ریگل چوک میں 2 بوتھ قائم کئے۔ وہاں آنے جانے والے لوگوں کو خوراک میں ملاوٹ جیسی قبیح برائی کی اہمیت بتاتے ہوئے ان سے ان خطوط پر دستخط کروانے کے لیے دستخطی مہم چلائی گئی۔ تمام خطوط کو روزانہ پوسٹ کیا جاتا تھا۔ اس طرح ایک ہفتہ میں تمام خطوط گورنر مغربی پاکستان جنرل (ر) محمد موسیٰ خان کو ارسال کر دیئے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی حملوں میں ساتھ دینے والے نتائج کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہیں: ایران نے خبردار کر دیا
حکومتی کمیٹیوں میں شرکت
انہی دنوں مجھے ضلعی سطح کی حکومتی ملاوٹ کمیٹی اور مہنگائی کمیٹیوں کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی جانب سے مدعو کیا جاتا رہا۔ میں 2 مرتبہ ان کمیٹیوں کے اجلاسوں میں شریک ہوا لیکن ان اجلاسوں میں مسائل کے حل کے ضمن میں کوئی خاص قابلِ ذکر بات نظر نہ آئی۔ میرا تاثر یہی تھا کہ مسائل کے حل کے لئے حکومتی سطح پر رسمی کارروائی کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمایوں سعید شوٹنگ کے دوران شدید زخمی، ندا یاسر نے تفصیلات بتادیں
صوبائی سیکرٹری صحت کے ساتھ ملاقات
کچھ دنوں بعد مجھے خوراک میں ملاوٹ کے خلاف چلائی گئی مہم کے ناظم کی حیثیت سے مغربی پاکستان کے صوبائی سیکرٹری محکمہ صحت کی جانب سے خط موصول ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ خوراک میں ملاوٹ کا مسئلہ صوبائی محکمہ صحت کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ لہٰذا یوتھ موومنٹ کی ملاوٹ کمیٹی کے ارکان سے درخواست کی گئی کہ وہ مقررہ تاریخ پر صبح 10 بجے ان کے دفتر واقع سیکرٹریٹ بالمشافہ ملاقات کے لئے تشریف لائیں۔
یہ بھی پڑھیں: اقتصادی رابطہ کمیٹی نے دفاعی منصوبوں کے لیے 5 ارب 8 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کرلی
مشاورت کا عمل
چنانچہ تاریخ مقررہ پر اپنی کمیٹی کے ارکان جناب ضیاء الاسلام انصاری، شباب مفتی ایڈووکیٹ، ڈاکٹر انوار الحق اور ریٹائرڈ سیکرٹری مغربی پاکستان کواپریٹو یونین، جن کا نام میرے ذہن سے محو ہو گیا ہے، کی ہمراہی میں سیکرٹری ہیلتھ سے مقررہ تاریخ پر جا کر ملے۔ سیکرٹری ہیلتھ، جن کا نام میں بھول رہا ہوں، بڑے تپاک سے پیش آئے۔ ان سے 10 بجے تا ایک بجے تک روزانہ ملاقاتیں 3 دن تک جاری رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیر صدارت اہم اجلاس، 27 ستمبر پشاور جلسہ کو عمران خان کی رہائی کے لیے اہم سنگ میل قرار دیدیا
طرف کرنے والی تجاویز
سیکرٹری ہیلتھ کو ہمارے دوستوں نے تفصیل سے سمجھانے کی کوشش کی کہ اشیاء خوراک کی کھلی فروخت قانونی طور پر بند کر دی جائے۔ تمام اشیائے خوردنی کو بند پیکٹوں میں فروخت کرنے کی اجازت ہونی چاہئے، جن کے لیبل پر تیار کنندگان کا نام پتہ درج ہو تاکہ ملاوٹ ہونے کی صورت میں صحیح ذمہ دار ملاوٹ کنندگان کو قانون کی گرفت میں لایا جا سکے۔ اشیائے خوردنی میں ملاوٹ کے مرتکب ملزمان کے لیے سزائے موت تجویز کی گئی تھی کیونکہ ملاوٹ کرنے والے ملک و قوم کے دشمن ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کوالیفائر ، پاکستان نے سکاٹ لینڈ کو دھول چٹا دی
قانونی ترامیم کی سفارشات
اس ضمن میں پیور فوڈ ایکٹ میں ضروری ترامیم تجویز کی گئی تھیں۔ ہماری تجاویز میں یہ بھی سفارش کی گئی تھی کہ ملاوٹ کے مرتکب ملزمان کے خلاف مقدمات سننے کے لئے بڑے شہروں لاہور، کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں سپیشل کورٹس قائم کی جائیں۔ ایک چوتھی تجویز میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ حکومت ازخود اپنے طور پر خالص اشیائے خوردنی کے ماڈل سٹورز قائم کرے۔(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








