خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث برفانی جھیل کے پھٹنے کے خطرات بڑھ گئے: پی ڈی ایم اے

پی ڈی ایم اے کی جانب سے اہم انتباہ

پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبرپختونخوا کی پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ صوبے کے برفانی علاقوں میں حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں برفانی جھیل کے پھٹنے کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ میں کوئی لنچ فری نہیں ہوتا اس کی قیمت ہوتی ہے اور عاصم منیر کی ٹرمپ کے ساتھ ملاقات پر ۔۔۔ نجم سیٹھی کا بڑا دعویٰ

برفانی جھیل کے پھٹنے کی وضاحت

ڈان کے مطابق برفانی جھیل کے پھٹنے کا مطلب یہ ہے کہ جب جھیل اچانک پھٹ جاتی ہے، جس سے بہنے والا پانی اور مٹی نیچے کی وادیوں میں تباہی پھیلاتے ہیں، جس کے نتیجے میں انسانی جانیں، املاک، اور مقامی لوگوں کی روزگار متاثر ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: یہودی آبادکاروں کے حملے میں امریکی نژاد سمیت 2 فلسطینی شہری جاں بحق

عوامی حفاظتی تدابیر

وزارت موسمیاتی تبدیلی کے مطابق گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں 7 کروڑ 10 لاکھ سے زائد افراد اس خطرے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا کی جانب سے آج جاری کردہ ہدایت نامے میں بتایا گیا ہے کہ درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ برف کے تیزی سے پگھلنے اور اچانک سیلاب آنے کے امکانات کو بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شمائلہ صدیقی کی وفد کے ہمراہ پاکستانی قونصل خانہ بارسلونا کا دورہ

علاقائی انتباہات

چترال، دیر، سوات اور کوہستان کے رہائشیوں کو ممکنہ برفانی جھیلوں کے پھٹنے کے بارے میں خبردار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو حساس علاقوں کی نگرانی، بروقت اطلاع رسانی اور انخلا کی مشقوں کو یقینی بنانے کا کہا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی اسلحہ لائسنس اسکینڈل، نادرا حکام کا ردعمل بھی آگیا

احتیاطی تدابیر

پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب غیر ضروری آمدورفت سے گریز کرنے اور تیز بہتے پانی میں گاڑیاں لے جانے سے منع کیا ہے۔ سیاحوں کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انتہا پسند ہندوؤں اور یہودیوں نے پاکستان کے خلاف محاذ کھول دیا، ’’سازشی مہم‘‘ کیسے اور کہاں سے چلائی جا رہی ہے ؟ تہلکہ خیز انکشافات

نقل مکانی اور امدادی اقدامات

ادارے کا کہنا ہے کہ ممکنہ متاثرہ علاقوں میں نقل مکانی کے لیے مقامات قائم کیے گئے ہیں اور امدادی اداروں کو ہنگامی سازوسامان کے ساتھ تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شہزاد اکبر کو واپس پاکستان لانے کے لیے وفاقی حکومت نے برطانیہ سے کیس ٹو کیس معاملہ اٹھانے کا فیصلہ کر لیا

سڑکوں کی بحالی

محکمہ شاہرات، سرحدی تعمیراتی ادارے اور تعمیرات و مواصلات کے محکمے کو سڑکوں کی بروقت بحالی کے لیے پیشگی اقدامات کرنے اور چوکنا رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عافیہ صدیقی رہائی، وطن واپسی سے متعلق کیس، وفاقی کابینہ کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری

ہنگامی اقدامات

پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فوری اقدام اٹھانے کی ہدایت کی ہے، اور عوام کو ممکنہ نقصانات سے بچنے کے لیے آگاہی مہم بھی شروع کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی برادری کشمیر کے تصفیہ طلب بحران کو حل کرنے کیلئے اقدامات کرے، بلاول بھٹو

ہنگامی مرکز کی فعال حالت

ہدایت نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ادارے کا ہنگامی مرکز مکمل طور پر فعال ہے، عوام مزید معلومات کے لیے 1700 پر رابطہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں: وزرائے داخلہ کا دورہ لاہور ایئرپورٹ، کسی کو بلاجواز نہیں روکا جائے گا: محسن نقوی

جانی نقصان اور خطرات

یہ ہدایت نامہ اس وقت جاری کیا گیا ہے جب این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں شدید بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ایک ہفتے کے دوران 64 افراد جاں بحق اور 117 زخمی ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ جانی نقصان خیبرپختونخوا میں ہوا، جہاں 10 بچوں سمیت 23 افراد جاں بحق ہوئے، گزشتہ ہفتے وادی سوات میں اچانک آنے والے سیلاب میں 14 افراد بہہ گئے تھے۔

موسمی حالات

محکمہ موسمیات کے مطابق خطے کے بیشتر حصوں میں مرطوب ہوائیں داخل ہو رہی ہیں جو آئندہ چند روز میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں۔ پی ڈی ایم اے نے متعلقہ حکام پر زور دیا ہے کہ وہ دریاؤں، ندی نالوں اور برساتی نالوں کی نگرانی جاری رکھیں، تاکہ پانی کے بہاؤ میں خلل نہ آئے اور شہری سیلاب کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...