یوٹرن نہیں لیا، پاکستانیوں کے بھارت میں کام نہ کرنے کے موقف پر قائم ہوں :نادیہ خان
نادیہ خان کا موقف
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ٹی وی میزبان، مبصر و اداکارہ نادیہ خان نے کہا ہے کہ انہوں نے ہانیہ عامر کے معاملے پر یوٹرن نہیں لیا، وہ اب بھی اپنے موقف پر قائم ہیں کہ پاکستانیوں کو بھارت میں کام نہیں کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: قونصل خانے پر حملہ: دلی کی دیپلوماسی کی شرمندگی اور ڈھاکہ کا غصہ، بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان نیا تنازع کیا ہے؟
تنقید کا جواب
ڈان کے مطابق نادیہ خان نے انسٹاگرام سٹوریز اور یوٹیوب پر ویڈیو جاری کرتے ہوئے خود پر ہونے والی تنقید پر بات کی اور کہا کہ ان پر یوٹرن لینے کا الزام غلط ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے وفاقی بجٹ مسترد کردیا
ویڈیو کا استعمال
نادیہ خان نے اپنی ویڈیو کو آرٹیفشل انٹیلی جنس (اے آئی) کی مدد سے انگریزی زبان میں جاری کیا، جس میں انہوں نے خود پر ہونے والی تنقید کے بارے میں بات کی۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: جنات کو کیسے جلایا جاتا ہے؟ جنات کو کون بھیجتا ہے اور یہ کہاں رہتے ہیں؟
ہانیہ عامر کی تعریف
اداکارہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہانیہ عامر کی بھارتی فلم ’سردار جی تھری‘ کے ریلیز ہونے پر یوٹرن نہیں لیا بلکہ صرف اپنے سکھ بھائیوں کی تعریفیں کیں۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں قتل ہونے والی 10 سالہ سارہ شریف کے والد عرفان شریف نے قتل کی ذمہ داری قبول کرلی
پاکستانیوں کے کام کے مواقع
ان کے مطابق، کسی کی تعریف کرنا یوٹرن نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستانی فنکاروں کو بھارت میں وہ مقام نہیں ملتا جو انہیں پاکستان میں ملتا ہے تو ان کا انڈیا میں کام کرنا اچھا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اولڈایئرپورٹ راولپنڈی روڈ پر بائیک لائن بنانے کے بعد توڑے جانے پر شہری نے حکومت کی پلاننگ پر سوالات اٹھا دیئے
تنقید کی ذمہ داری
اداکارہ نے یہ بھی کہا کہ وہ ذاتی سوشل میڈیا پیجز پر اداکاروں پر تنقید نہیں کرتیں بلکہ ’کیا ڈراما ہے‘ نامی شو اور نیوز چینل میں کام کے دوران اداکاروں پر تنقید کرتی ہیں۔ یہ ان کی پیش ورانہ ذمہ داریوں کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رہنما نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی
سوالات کا حق
نادیہ خان کے مطابق نیوز چینل میں کام کے دوران انہیں مواد فراہم کیا جاتا ہے کہ انہیں کس معاملے پر کیا بات کرنی ہے، اسی طرح انہیں یہ بات کہنے کی ہدایت کی گئی کہ پاکستانی فنکاروں کو دشمن ملک میں کام نہیں کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: فلم فیسٹیول میں عالیہ بھٹ کی طبعیت خراب ہوئی تو کرینہ کپور نے کیا کیا؟
یوٹرن کا وضاحت
نادیہ خان نے واضح کیا کہ ان کی جانب سے ’سردار جی تھری‘ کی تعریفیں کرنے کو ان کا یوٹرن نہ سمجھا جائے، وہ اب بھی اپنے موقف پر قائم ہیں کہ پاکستانی فنکاروں کو بھارت میں کام نہیں کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد بھارت کی سرکاری آئل ریفائنریز نے روسی تیل کی خریداری روک دی
پچھلی تنقید کا حوالہ
خیال رہے کہ ہانیہ عامر کی بھارتی فلم ’سردار جی تھری‘ کی ریلیز کے موقع پر نادیہ خان نے ہانیہ عامر کی تعریفیں کرتے ہوئے بھارتی فلم میں ان کے کام کو سراہا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ بھارتی فلم پاکستان میں ریلیز ہونی چاہیے، ساتھ ہی انہوں نے دلجیت دوسانجھ کی بھی تعریفیں کی تھیں۔
ماضی میں تنقید
اس سے قبل وہ ہانیہ عامر پر سخت تنقید کرتی دکھائی دیتی تھیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہانیہ عامر بھارتی پی آر پر وقت ضائع کر رہی ہیں اور فواد خان سمیت دیگر اداکاروں کو بھی بھارتی فلموں میں کام کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ لیکن ہانیہ عامر کی ’سردار جی تھری‘ ریلیز ہونے کے بعد انہوں نے اچانک اداکارہ کی تعریفیں شروع کر دیں۔








