رنگ خون کا، بہت ماند دیکھائی دیتا ہے
سانحے کا خاموشی میں گزر جانا
کچھ دنوں پہلے ہونے والا سانحہ سوات ہو یا پھر آج کراچی کے علاقے لیاری میں 6 منزلہ خستہ حال عمارت گرنے کا واقعہ، قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہارے یہاں معمول کی بات بنتی جارہی ہے، ایک ایسی بات جس سے اقتدار کی نشستوں پر براجمان شخصیات کا کوئی لینا دینا نظر نہیں آتا، جس سے اُنہیں کوئی فرق پڑتا دیکھائی نہیں دیتا۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت نے مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کے تبادلے کردیے
ریسکیو کے معیار کی جانچ
سانحہ ہو جاتا ہے، ریسکیو ٹیمیں گرتے، پڑتے آرام اور اطمینان سے، اپنی سہولت کے مطابق جائے حادثہ پر پہنچتی ہیں، اور پھر جیسے تیسے کام کا آغاز کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت پنجاب صحافیوں کے لیے اپنے گھر کی تعمیر میں بھرپور معاونت کرے گی، وزیراعلیٰ مریم نواز کی لاہور پریس کلب کی نومنتخب قیادت کو مبارکباد
ریسکیو کی کوششیں
ٹی وی چینلز پر لوگوں نے سوات دریا میں ایک چھوٹی سی بوٹ کو ریسکیو کا کام کرتے دیکھا۔ لیاری میں جس طرح سے ریسکیو آپریشن ہوتا دیکھائی دے رہا ہے، اللہ کرے کہ اپنے مقاصد حاصل کرلے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق چیف جسٹس مصطفیٰ مغل کی بطور چیف الیکشن کمشنر آزادکشمیر تقرری کی منظوری
ریسکیو اداروں کی صورتحال
ہمارے یہاں کے ریسکیو اداروں کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان اداروں کے پاس مطلوبہ افرادی قوت، سازوسامان، پیشہ وارانہ تربیت کا فقدان، اور سب سے بڑھ کر کسی حادثہ کی صورت میں فوری طور پر کیا ہونا چاہیے اگر ان اداروں کو پتہ بھی ہو تو وہ اس پر عمل نہیں کرتے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس سوال کے جواب کی کھوج ضروری ہے!!
یہ بھی پڑھیں: کویت میں منیٰ الاحمدی آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ، متعدد یونٹس میں آگ لگ گئی
عوام کا نقطہ نظر
عوام کا ماننا ہے کہ سیاست، نااہلی، اور کرپشن کے ناسور نے ان اداروں کو نیم مفلوج بنا رکھا ہے۔ اربوں کھربوں کے فنڈز کا بڑا حصہ (اُوپر سے لے کر نیچے تک) بد دیانتی اور بد نیتی کی نظر ہو جاتا ہے۔ اگر ریسکیو ٹیمیں تمام تر پروٹوکول پر عمل پیرا ہوتے ہوئے بروقت جائے حادثہ پر پہنچ جائیں اور پیشہ وارانہ ہنرمندی کے تحت، چابک دستی سے کوششیں شروع کی جائیں تو بہت سی انسانی جانیں بچ جائیں۔
حکومتی اقدامات کی ضرورت
سیاسی اور حکومتی عہدیداروں کی جانب سے محض لمبے چوڑے، انسانی ہمدردی پر مبنی، بیانات داغ دینے سے انسانی جانوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاسکتا، حادثات کی روک تھام کے لیے جن اقدامات اور اصلاحات کی ضرورت ہے اُن پر عمل پیرا ہونا ضروری ہوگا.
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں








