امیر مقام کا ہوٹل مکمل نہیں گراؤں گا، صرف تجاوزات کا حصہ گرے گا، علی امین گنڈا پور
وزیرِ اعلیٰ کی وضاحت
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ امیر مقام کا ہوٹل مکمل نہیں گراؤں گا، صرف تجاوزات کا حصہ گرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ کسی سے زیادتی نہیں ہو گی، مجھے خدا کو جواب دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کے غزہ جنگ کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے 20 نکاتی منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف
حکومت کی مضبوطی
پشاور میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مضبوط ہے، کوئی رکن کہیں نہیں جا رہا۔ تحریکِ عدم اعتماد لانے کا شوق رکھنے والے حقیقت دیکھ لیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: پولیس مقابلے میں 4 ڈاکو ہلاک، ایس ایچ او اور کانسٹیبل زخمی
بجٹ کی منظوری
انہوں نے کہا کہ اگر بجٹ پاس نہ ہوتا تو حکومت جاتی، قصور ہمارا ہوتا۔ بجٹ نہ پیش کرنے کا پروپیگنڈا اپنوں کا تھا۔ پارٹی پیٹرن انچیف نے بجٹ منظوری پر اطمینان کا اظہار کیا، صرف 2 ارکان نے بجٹ کے حق میں ووٹ نہیں دیا، سب جانتے ہیں وہ کس کے لوگ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صدر پی ٹی آئی کے پی جنید اکبر نے پارٹی کے فیصلوں سے خود کو الگ کر لیا
اسمبلی کے ارکان کی حیثیت
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ اس وقت اسمبلی میں تمام ارکان آزاد حیثیت رکھتے ہیں، میں پی ٹی آئی کا رکن ہوں، کاغذاتِ نامزدگی میں پارٹی لکھی ہے، سینیٹ انتخابات سے متعلق مشاورت کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: بیٹے کو سیلابی ریلے سے بچاتے ہوئے باپ نے اپنی جان دے دی
گورنر کے بیانات
ان کا کہنا ہے کہ گورنر کچھ نہیں بگاڑ سکتے، صرف بیانات دیتے ہیں۔ مخصوص نشستوں کی بنیاد پر عدالت سے رجوع کروں گا۔ انہوں نے اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے مشترکہ سیکیورٹی چیک پوسٹ کے قیام کی تجویز دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دلجیت دوسانجھ کی سوشل میڈیا ویڈیو پر سجاد علی کا ‘راوی’ گانا
مالیات کے حوالے سے
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ ساڑھے 11 کروڑ کے بسکٹ نہیں کھائے، بلکہ رقم سے 400 کلاس فور ملازمین کو کھانا دیا۔ انہوں نے اخراجات کے ساتھ 250 ارب روپے کی بچت کا دعویٰ بھی کیا۔
مہمان نوازی
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں مہمانوں کی خاطر مدارت لازمی ہے، پنجاب اور سندھ کے مقابلے میں کم خرچ کر رہا ہوں۔ بیوروکریسی کو کنٹرول کرنا سیاسی قیادت کا کام ہے، ہم کر کے دکھائیں گے۔








