پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے پر بڑی پیش رفت
پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی مذاکرات
اسلام آباد، واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی مذاکرات کے حالیہ دور میں ایک اہم مفاہمتی معاہدہ طے پا گیا ہے، جو برآمدی شعبے کے مستقبل کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رہنما زین قریشی مستعفی
مفاہمتی معاہدے کی اہمیت
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق 9 جولائی کی ڈیڈ لائن سے قبل یہ کامیابی پاکستانی مصنوعات، بالخصوص ٹیکسٹائل اور زرعی اشیا پر دوبارہ بھاری ٹیرف عائد ہونے کے خطرے کو مؤثر طور پر ٹال سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں بچوں کی لڑائی میں بڑے کود پڑے، 19سالہ نوجوان چھریوں کے وار سے جاں بحق
پاکستانی وفد کی کامیابی
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سیکرٹری تجارت جاوید پال کی قیادت میں پاکستانی وفد نے واشنگٹن میں 4 روزہ مذاکرات کامیابی سے مکمل کیے، اور اب وہ وطن واپسی کی تیاری میں مصروف ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان فریم ورک پر اصولی اتفاق ہو چکا ہے، تاہم باضابطہ اعلان اُس وقت کیا جائے گا جب امریکا اپنے دیگر تجارتی شراکت داروں کے ساتھ جاری مذاکرات کو حتمی شکل دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2024 کی بہترین ٹیم کا اعلان، کوئی پاکستانی شامل نہیں
دو طرفہ ٹیرف معاہدہ
پاکستانی وفد کا بنیادی ہدف ایک طویل مدتی دو طرفہ ٹیرف معاہدہ تھا، جس کے تحت رواں سال کے آغاز میں عارضی طور پر معطل کردہ 29 فیصد ٹیرف مستقل طور پر ختم کر دیا جائے۔ حکام کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب نہ ہوتے تو 9 جولائی کے بعد یہ رعایت واپس لی جا سکتی تھی، جس سے پاکستانی برآمدات کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں دو الگ کارروائیوں میں 15 خوارج ہلاک، آئی ایس پی آر
اقتصادی تعاون کے نئے امکانات
ذرائع کے مطابق مذاکرات نہ صرف کامیاب رہے بلکہ فریقین نے ایک وسیع اقتصادی تعاون کے فریم ورک پر بھی اتفاق کر لیا ہے۔
معاہدے کے تحت نہ صرف امریکی خام تیل کی پاکستان درآمد میں اضافہ ممکن ہو گا بلکہ کان کنی، توانائی اور انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری کے دروازے بھی کھلیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: والدین کے لیے خوشخبری: اسکولز کو بہن بھائیوں کی فیس میں رعایت دینے کی ہدایت
امریکی ایکسپورٹ-امپورٹ بینک کی اہمیت
یہ اہم معاہدہ امریکی ایکسپورٹ-امپورٹ بینک کے ذریعے دو طرفہ معاشی شراکت داری کو مزید وسعت دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
حکومتی کوششیں اور امیدیں
اگرچہ امریکہ کے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے قبل ازیں عندیہ دیا تھا کہ مثبت پیش رفت کی صورت میں ڈیڈ لائن میں نرمی کی گنجائش موجود ہو سکتی ہے، تاہم پاکستانی حکام نے اس عمل کو جلد مکمل کرنے پر زور دیا تاکہ سرمایہ کاروں اور برآمد کنندگان میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ کیا جا سکے۔
ماہرین اور حکام پُرامید ہیں کہ اس مفاہمتی پیش رفت سے پاکستان کی امریکی منڈی تک رسائی بدستور قائم رہے گی اور ان دوطرفہ اقتصادی تعلقات میں وہ توازن دوبارہ بحال ہو سکے گا۔








