حکومت نے زوال پذیر صنعتی شعبے کی بحالی کیلئے نئی صنعتی پالیسی کو حتمی شکل دیدی

نئی صنعتی پالیسی کی تشکیل

ا سلام آ باد(ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے ملک کے زوال پذیر صنعتی شعبے کو بحال کرنے کے لیے ایک نئی صنعتی پالیسی کو حتمی شکل دے دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاسداران انقلاب کے مطابق ہمارے پاس موجودہ رفتار سے کم از کم چھ ماہ تک جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت ہے

اجلاس کی تفصیلات

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ وزیرِ اعظم کی صنعتی پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں شعبے کی مسلسل سکڑتی ہوئی حالت کے پیش نظر اصلاحات کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا۔

یہ اجلاس وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان کی صدارت میں منعقد ہوا. اجلاس میں 8 خصوصی ذیلی کمیٹیوں کی اہم سفارشات کی منظوری دی گئی، جس سے پالیسی پر عمل درآمد کا راستہ ہموار ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور ہائی کورٹ کا خیبرپختونخوا میں بند 26 ٹوبیکو فیکٹریاں فوری کھولنے کا حکم

صنعتی شعبے کی معیشت میں اہمیت

اجلاس میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں صنعتی شعبے کا حصہ مسلسل کم ہو رہا ہے، جو 1996 میں 26 فیصد تھا، وہ 2025 میں صرف 18 فیصد رہ گیا ہے۔ کمیٹی نے برآمدات میں اضافہ، درآمدی متبادل کی تیاری، اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایکواٹوریل گنی کے سیکس ٹیپ سکینڈل نے صدر، وزرا اور فوجی افسران کی بیویاں بھی متاثر کیں

اہم تجاویز

اہم تجاویز میں بیمار صنعتوں کی بحالی شامل تھی، کمیٹی نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی اور صنعتی بحالی کے لیے رہنما اصول جاری کرنے کی سفارش کی۔

کارپوریٹ بحالی ایکٹ 2018، ایس ای سی پی ایکٹ، اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ، اور انکم ٹیکس آرڈیننس میں قانونی ترامیم کی بھی تجویز دی گئی تاکہ بحالی کی کوششوں کو تقویت مل سکے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیکس وصولی میں تنخواہ دار طبقہ سرفہرست، نصف سال میں 266 ارب روپے جمع کروائے

بینک کی تجاویز

کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی کہ بینک صنعتی بحران کی ابتدائی علامات کی پیش گوئی کے لیے ڈیٹا فورکاسٹنگ ٹولز استعمال کریں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی متنازعہ پوسٹ پر امریکی سیاستدان برس پڑے، صدر کو نااہل قرار دے دیا

مالی مراعات

مالی مراعات کے حوالے سے کمیٹی نے سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے 3 سال میں کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کو 29 فیصد سے کم کر کے 26 فیصد تک مرحلہ وار لانے کی تجویز دی۔

یہ بھی پڑھیں: ایس او ٹی ایونٹس 2024 کا کراچی میں آغاز

نئی ذیلی کمیٹیاں

تیز تر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے، معاونِ خصوصی نے 10 نئی ذیلی کمیٹیاں تشکیل دیں، جنہیں ایک ہفتے کے اندر قابلِ عمل نتائج پیش کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔

پالیسی کی توقعات

ہارون اختر خان نے اس پالیسی کو جامع قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان میں ایک صنعتی انقلاب کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ حتمی سفارشات وزیرِ اعظم شہباز شریف کو منظوری کے لیے پیش کر دی گئی ہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...