اسرائیل کا مذاکراتی ٹیم قطر بھیجنے کا اعلان؛ حماس کی شرائط مسترد
اسرائیلی حکومت کا قطر میں مذاکراتی ٹیم بھیجنے کا فیصلہ
تل ابیب (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیلی حکومت نے غزہ میں جاری جنگ بندی کے مذاکرات کےلیے اپنی مذاکراتی ٹیم کو قطر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم ساتھ ہی حماس کی شرائط مسترد کردی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کریپٹو کونسل کے سی ای او بلال بن ثاقب نے وزیراعظم کے خصوصی معاون کے عہدے سے استعفیٰ کیوں دیا ؟ جانیے
مذاکرات کی تفصیلات
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق یہ وفد امریکہ اور قطر کی تجویز کردہ جنگ بندی کے معاہدے پر بات چیت کے لیے دوحا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے فیلڈ مارشل سے منسوب باتوں پر بھارتی وزارت خارجہ کا بیان مسترد کردیا
حماس کی شرائط کا رد
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ حماس کی طرف سے قطری تجویز میں تبدیلی کی درخواست کو ’’قابل قبول نہیں سمجھا جاتا‘‘۔
یہ بھی پڑھیں: شدید سردی، تباہ شدہ انفراسٹرکچر اور مسلسل پابندیاں، غزہ میں انسانی بحران شدید ہونے لگا۔
نیتن یاہو کا عزم
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے سخت گیر اتحادیوں کو یقین دلایا ہے کہ وہ غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروپوں کی فوجی طاقت ختم کیے بغیر جنگ بندی نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی میں پاک بھارت کرکٹ مقابلہ کا میدان سجا
غزہ کی صورتحال اور بین الاقوامی دباؤ
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ بین الاقوامی برادری کی جانب سے جنگ بندی کےلیے دباؤ بڑھتا جارہا ہے، لیکن اسرائیل کا موقف ہے کہ وہ حماس کی فوجی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کیے بغیر کوئی معاہدہ نہیں کرے گا۔
آنے والے مذاکرات کا اثر
قطر اور امریکہ کے درمیان ہونے والی مذاکرات میں اسرائیلی وفد کا رویہ واضح کرے گا کہ آیا جنگ بندی کے لیے کوئی مشترکہ زمین دستیاب ہوسکتی ہے یا نہیں۔ مبصرین کے مطابق اگرچہ مذاکرات کا عمل جاری ہے، لیکن فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات اب بھی موجود ہیں جو کسی فوری حل کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔








